اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 125

اصحاب بدر جلد 2 125 " حضرت ابو بکر صدیق ظاہر ہونے لگے۔اور یا تو سر ڈالے بیٹھے تھے یا خوشی سے انہوں نے سر اٹھالئے۔اس حالت کو دیکھ کر بعض دور اندیش صحابہ نے ایک صحابی کو دوڑایا کہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جو اس وجہ سے کہ درمیان میں آنحضرت صلی اللہ علم کی طبیعت کچھ اچھی ہو گئی تھی آپ کی اجازت سے مدینہ کے پاس ہی ایک گاؤں کی طرف گئے ہوئے تھے جلد لے آئیں واپس بلا لائیں۔بہر حال وہ چلے ہی تھے کہ حضرت ابو بکر ان کو مل گئے۔واپس آرہے تھے ان کو دیکھتے ہی ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے “ ان صحابی کے جو اطلاع دینے جا رہے تھے اور جوش گریہ کو ضبط نہ کر سکے۔حضرت ابو بکر سمجھ گئے کہ کیا معاملہ ہے اور ان صحابی ہے پوچھا کہ کیا رسول کریم صلی لیکر فوت ہو گئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضرت عمر کہتے ہیں کہ جو شخص کہے گا کہ رسول کریم صلی ہلم فوت ہو گئے ہیں میں اس کی گردن تلوار سے اڑا دوں گا۔اس پر آپ حضرت ابو بکر آنحضرت صلی علی ایم کے گھر تشریف لے گئے۔آپ صلی المی نم کے جسم مبارک پر جو چادر پڑی تھی اسے ہٹا کر دیکھا اور معلوم کیا کہ آپ فی الواقعہ فوت ہو چکے ہیں۔اپنے محبوب کی جدائی کے صدمے سے ان کے آنسو جاری ہو گئے اور نیچے جھک کر آپ کی پیشانی پر “ حضرت ابو بکر نے ” بوسہ دیا اور کہا کہ بخدا اللہ تعالیٰ تجھ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔تیری موت سے دنیا کو وہ نقصان پہنچا ہے جو کسی نبی کی موت سے نہیں پہنچا تھا۔تیری ذات صفت سے بالا ہے اور تیری شان وہ ہے کہ کوئی ماتم تیری جدائی کے صدمے کو کم نہیں کر سکتا۔اگر تیری موت کا روکنا ہماری طاقت میں ہو تا تو ہم سب اپنی جانیں دے کر تیری موت کو روک دیتے۔م الله سة یہ کہہ کر کپڑا پھر آپ کے اوپر ڈال دیا اور اس جگہ کی طرف آئے جہاں حضرت عمر صحابہ کا حلقہ بنائے بیٹھے تھے اور ان سے کہہ رہے تھے کہ آنحضرت صلی للی نیم فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں۔وہاں آکر آپ نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ آپ ذرا چپ ہو جائیں مگر انہوں نے ان کی بات نہ مانی اور اپنی بات کرتے رہے۔اس پر حضرت ابو بکر نے ایک طرف ہو کر لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ رسول کریم صلی یم در حقیقت فوت ہو چکے ہیں۔صحابہ کرام حضرت عمر کو چھوڑ کر آپ کے گرد جمع ہو گئے اور بالآخر حضرت عمر کو بھی آپ کی بات سننی پڑی۔آپؐ “ حضرت ابو بکر نے فرمایا ، جس طرح پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُوْلُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَائِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيْتُونَ يَأَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدمَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَى لاسموٹ یعنی محمد صلی علیہ کم بھی ایک رسول ہیں آپؐ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں پھر اگر آت فوت ہو جائیں یا قتل ہو جائیں تو کیا تم لوگ اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔تحقیق تو بھی فوت ہو جائے گا اور یہ الله لوگ بھی فوت ہو جائیں گے۔اے لوگو! جو کوئی محمد صلی علیم کی پرستش کرتا تھا وہ سن لے کہ محمد صلی علیکم فوت ہو گئے اور جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا اسے یادر ہے کہ اللہ زندہ ہے اور وہ فوت نہیں ہو تا۔جب آئے “ حضرت ابو بکر نے مذکورہ بالا دونوں آیات پڑھیں اور لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ فوت ہو چکے ہیں تو صحابہ پر حقیقت آشکار ہوئی اور وہ بے اختیار رونے لگے اور حضرت عمر خود بیان فرماتے ہیں کہ جب