اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 124
اصحاب بدر جلد 2 124 حضرت ابو بکر صدیق لیا کہ نبی صلی علی کرم فوت ہو گئے ہیں۔8 338 حضرت ابو بکر کی شجاعت کی بہت بڑی دلیل حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر حضرت عمررؓ کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ حضرت عمرؓ یہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی للی یکم فوت نہیں ہوئے اور اس وقت تک فوت نہیں ہوں گے جب تک کہ اللہ منافقوں کو قتل نہ کر دے۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ وہ یعنی صحابہ یہ سن کر خوشی کا اظہار کرتے تھے اور اپنے سروں کو اٹھاتے تھے تو حضرت ابو بکر نے فرمایا۔اے شخص! یقینار سول اللہ صلی علی علم فوت ہو گئے ہیں۔حضرت عمر کو مخاطب کیا اور کہا یقینار سول اللہ صلی علی کرم فوت ہو گئے ہیں۔کیا تو نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے که إِنَّكَ مَيِّتٌ وَ إِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (الزمر:31) تم بھی مرنے والے ہو اور وہ بھی مرنے والے ہیں اور یہ بھی کہ وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرِ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ( نیا : 3) اور ہم نے کسی بشر کو تجھ سے پہلے ہمیشگی عطا نہیں کی۔پھر حضرت ابو بکر منبر پر تشریف لائے اور خطاب کیا۔بہر حال اس حدیث کی تشریح میں ابو عبد اللہ قرطبی بیان کرتے ہیں کہ اس بات میں حضرت ابو بکر صدیق کی شجاعت پر بہت بڑی دلیل ہے کیونکہ شجاعت کی انتہا یہ ہے کہ مصائب کے نازل ہونے کے وقت دل کا ثابت قدم رہنا اور مسلمانوں پر اس وقت کوئی مصیبت نبی کریم صلی للی کم کی وفات کی مصیبت سے بڑھ کر نہ تھی۔پس اس وقت آپ کی شجاعت اور علم ظاہر ہوا۔339 دونوں ہی ظاہر ہوئے۔بہادری بھی ظاہر ہوئی کہ صدمہ کو برداشت کیا اور قرآن کریم کی آیت کی جو تشریح کی اس سے علم بھی ظاہر ہوا۔الله اگر تیری موت کا رو کنا ہماری طاقت میں ہوتا تو اپنی جانیں دے کر تیری موت کو روک دیتے حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ کتب احادیث اور تواریخ میں یہ روایت درج ہے کہ رسول کریم صلی علی کرم کی وفات کا صحابہ پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ گھبر اگئے اور بعض سے تو بولا بھی نہ جاتا تھا اور بعض سے چلا بھی نہ جاتا تھا اور بعض اپنے حواس اور اپنی عقل کو قابو میں نہ رکھ سکے اور بعض پر تو اس صدمہ کا ایسا اثر ہوا کہ وہ چند دن میں کھل کھل کر فوت ہو گئے۔حضرت عمر پر اس صدمہ کا اس قدر اثر ہوا کہ آپ نے حضور کی وفات کی خبر کو باور ہی نہ کیا اور تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے گا کہ رسول کریم صلی علی کرم فوت ہو گئے ہیں تو میں اسے قتل کر دوں گا۔آپ تو موسیٰ علیہ السلام کی طرح بلائے گئے ہیں۔جس طرح وہ چالیس دن کے بعد واپس آگئے تھے اسی طرح آپ کچھ عرصہ کے بعد واپس تشریف لائیں گے اور جو لوگ آپ پر الزام لگانے والے ہیں اور منافق ہیں ان کو قتل کریں گے اور صلیب دیں گے اور اس قدر جوش سے آپ اس دعوے پر مصر تھے کہ صحابہ میں سے کسی کو طاقت نہ ہوئی کہ آپ کی بات کو رڈ کرتا۔اور آپؐ “ حضرت عمر کے اس جوش کو دیکھ کر بعض لوگوں کو تو یقین ہو گیا کہ یہی بات درست ہے۔آنحضرت صلی علیہ یکم فوت نہیں ہوئے اور ان کے چہروں پر خوشی کے آثار