اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 102
حاب بدر جلد 2 266 102 حضرت ابو بکر صدیق خاطر صبر و ثبات دکھاؤ اور ہم خدا پر ایمان لاتے ہوئے رسول اللہ صلی علیکم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔عروہ نے طیش میں آکر پوچھا یہ کون شخص ہے جو اس طرح میری بات کا نتا ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ ابو بکر نہیں۔ابو بکر کا نام سن کر عروہ کی آنکھیں شرم سے بچی ہو گئیں۔کہنے لگا اے ابو بکر اگر میرے سر پر تمہارا ایک بھاری احسان نہ ہوتا۔یہاں بھی یہی ذکر کیا ہے کہ حضرت ابو بکر نے ایک دفعہ اس کا قرض ادا کر کے اس کی جان چھڑائی تھی۔تو خدا کی قسم میں تمہیں اس وقت بتاتا کہ ایسی بات کا جو تم نے کہی ہے کس طرح جواب دیتے ہیں۔حضرت ابوجندل کاز نجیروں میں لڑکھڑاتے ہوئے آنا بخاری کے ایک حوالے میں درج ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ ظلم کے ساتھ قریش کا معاہدہ ہو رہا تھا اور شرائط طے پاچکی تھیں۔اس وقت حضرت ابو جندل جو کہ سہیل بن عمرو کے بیٹے تھے اپنی زنجیروں میں لڑکھڑاتے ہوئے آئے۔سہیل بن عمرو نے جو مکہ کی طرف سے بطور سفیر آئے تھے اس نے ان کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔آنحضور صلی علی کلم نے اس کو قریش کو واپس کر دیا۔267 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس کی کچھ تفصیل بیان کی ہے اور اس میں اس واقعہ کا بھی ذکر ہے جو حضرت عمر نے آنحضرت صلی علیم سے بحث کرتے ہوئے کیا تھا کہ اگر آپ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں تو پھر ہم یوں نیچے لگ کر بات کیوں کریں۔بہر حال اس کی تفصیل یہ ہے یعنی ابو جندل کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اس پر حضرت عمر نے یہ بات کی۔مسلمان یہ نظارہ دیکھ رہے تھے ” ابو جندل سے زیادتی کا “ اور مذہبی غیرت سے ان کی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا مگر رسول اللہ صلی الی یکم کے سامنے سہم کر خاموش تھے۔آخر حضرت عمرؓ سے نہ رہا گیا۔وہ آنحضرت صلی الم کے قریب آئے اور کانپتی ہوئی آواز میں فرمایا۔کیا آپ خدا کے برحق رسول نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں ضرور ہوں۔عمر نے کہا کیا ہم حق پر نہیں اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں ضرور ایسا ہی ہے۔عمرؓ نے کہا تو پھر ہم اپنے سچے دین کے معاملہ میں یہ ذلت کیوں برداشت کریں ؟ آپ نے حضرت عمر کی حالت کو دیکھ کر مختصر الفاظ میں فرمایا۔دیکھو عمر ! میں خدا کا رسول ہوں اور میں خدا کی منشاء کو جانتا ہوں اور اس کے خلاف نہیں چل سکتا اور وہی میرا مددگار ہے مگر حضرت عمرؓ کی طبیعت کا تلاطم لحظہ بلحظہ بڑھ رہا تھا۔کہنے لگے کیا آپ نے ہم سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ کا طواف کریں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نے ضرور کہا تھا مگر کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ طواف ضرور اسی سال ہو گا ؟ عمر نے کہا نہیں ایسا تو نہیں کہا۔آپ نے فرمایاتو پھر انتظار کرو۔تم ان شاء اللہ ضرور مکہ میں داخل ہو گے اور کعبہ کا طواف کرو گے۔مگر اس جوش کے عالم میں حضرت عمر کی تسلی نہیں ہوئی لیکن چونکہ آنحضرت صلی الله کم کا خاص رعب تھا اس لئے حضرت عمر وہاں سے ہٹ کر حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور ان کے ساتھ بھی اسی قسم کی جوش کی باتیں کیں۔اور حضرت ابو بکر نے بھی اسی قسم کے جواب دئے مگر ساتھ ہی حضرت ابو بکر نے نصیحت کے