اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 101
اصحاب بدر جلد 2 101 حضرت ابو بکر صدیق کہا یعنی حضرت عمر نے کہا۔کیا آپ صلی لی کہ ہم سے نہیں کہتے تھے کہ ہم عنقریب بیت اللہ میں پہنچیں گے اور اس کا طواف کریں گے ؟ آپ نے فرمایا: بے شک میں نے کہا تھا اور کیا میں نے تمہیں یہ بتایا تھا کہ ہم بیت اللہ اسی سال پہنچیں گے ؟ آنحضرت صلی اللہ ہم نے پوچھا۔میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ ہم اسی سال بیت اللہ پہنچیں گے۔حضرت عمر کہتے تھے۔میں نے کہا نہیں تو آپ صلی علیم نے فرمایا تو پھر بیت اللہ ضرور پہنچو گے اور اس کا طواف بھی کرو گے۔حضرت عمر کہتے تھے یہ سن کر میں ابو بکڑ کے پاس آیا اور میں نے کہا۔ابو بکر ! کیا حقیقت میں آنحضرت صلی للی علم اللہ کے نبی نہیں ہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔میں نے کہا کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور ہمارا دشمن باطل پر ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔میں نے کہا ہم اپنے دین سے متعلق ذلت آمیز شرط کیوں قبول کریں؟ اس وقت ابو بکر نے کہا اے مردِ خدا! بے شک آنحضرت صلی اللہ تم اللہ کے رسول ہیں اور رسول اپنے رب کی نافرمانی نہیں کیا کرتا اور اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا۔حضرت ابو بکر نے تقریباً وہی الفاظ دہرائے جو آنحضرت صل ال کلم نے فرمائے تھے۔پھر حضرت ابو بکر نے حضرت عمرہ کو فرمایا کہ آپ صلی لی کمر کے طے فرمودہ معاہدے کو مضبوطی سے تھامے رہو۔اللہ کی قسم! آپ یقیناً حق پر ہیں۔حضرت عمر کہتے ہیں میں نے کہا کہ کیا آپ مصلی علی کرم ہم سے نہیں کہتے تھے کہ ہم ضرور بیت اللہ میں پہنچیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا بیشک۔کیا آنحضور صلی ا ہم نے یہ بھی بتایا تھا کہ تم اسی سال وہاں پہنچو گے ؟ حضرت عمر کہتے ہیں اس پر میں نے کہا نہیں۔تو اس پر حضرت ابو بکر نے کہا پھر تم ضرور وہاں پہنچو گے اور اس کا طواف ضرور کرو گے۔زہری نے کہا کہ حضرت عمرؓ کہتے تھے کہ میں نے اس غلطی کی وجہ سے بطور کفارہ کئی نیک عمل کئے۔265 یہ بخاری میں سے لیا گیا ہے۔اسی صلح حدیبیہ کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ عروہ آنحضرت صلی علیہم کی خدمت میں آیا اور آپ کے ساتھ گفتگو شروع کی۔آپ نے اس کے سامنے اپنی وہی تقریر دوہرائی جو اس سے قبل آپ بدیل بن ورقا کے سامنے فرماچکے تھے۔عُروہ اصولاً آنحضرت صلی الم کی رائے کے ساتھ متفق تھا مگر قریش کی سفارت کا حق ادا کرنے اور ان کے حق میں زیادہ سے زیادہ شرائط محفوظ کرانے کی غرض سے کہنے لگا۔اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! اگر آپ نے اس جنگ میں اپنی قوم کو ملیا میٹ کر دیا تو کیا آپ نے عربوں میں کسی ایسے آدمی کا نام سنا ہے جس نے آپ سے پہلے ایسا ظلم ڈھایا ہو لیکن اگر بات دگر گوں ہوئی یعنی قریش کو غلبہ ہو گیا تو خدا کی قسم مجھے آپ کے ارد گرد ایسے منہ نظر آرہے ہیں کہ انہیں بھاگتے ہوئے دیر نہیں لگے گی اور یہ سب لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔حضرت ابو بکر جو اس وقت آنحضرت صلی یہ نیم کے پاس ہی بیٹھے تھے عروہ کے یہ الفاظ سن کر غصہ سے بھر گئے اور فرمانے لگے جاؤ جاؤ اور لات کو ، یعنی اُن کا بت جولات ہے ، اس کو چومتے پھرو۔کیا ہم خدا کے رسول کو چھوڑ جائیں گے ؟ لات بت جو تھا وہ قبیلہ بنو ثقیف کا ایک مشہور بت تھا۔حضرت ابو بکر ضیا مطلب یہ تھا کہ تم لوگ بت پرست ہو اور ہم لوگ خدا پرست ہیں تو کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ تم تو بتوں کی