اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 103 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 103

اصحاب بدر جلد 2 103 حضرت ابو بکر صدیق رنگ میں فرمایا:۔دیکھو عمر سنبھل کر رہو۔رسولِ خدا کی رکاب پر جو ہاتھ تم نے رکھا ہے اسے ڈھیلانہ ہونے دینا کیونکہ خدا کی قسم ! یہ شخص جس کے ہاتھ میں ہم نے اپنا ہاتھ دیا ہے بہر حال سچا ہے۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ اس وقت میں اپنے جوش میں یہ ساری باتیں کہہ تو گیا مگر بعد میں مجھے سخت ندامت ہوئی اور میں تو بہ کے رنگ میں اس کمزوری کے اثر کو دھونے کے لئے بہت سے نفلی اعمال بجا لایا۔یعنی صدقے کئے۔روزے رکھے۔نفلی نمازیں پڑھیں اور غلام آزاد کئے تاکہ میری اس کمزوری کا داغ دھل جائے۔268 حضرت مصلح موعودؓ صلح حدیبیہ کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب خانہ کعبہ کے طواف کے لئے تشریف لے گئے تو کفار مکہ نے خبر پاکر اپنے ایک سردار کو آپ کی طرف روانہ کیا کہ وہ جا کر کہے کہ اس سال آپ طواف کے لئے نہ آئیں۔وہ سردار آپ کے پاس پہنچا اور بات چیت کرنے لگا۔بات کرتے وقت اس نے آپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگایا کہ آپ اس دفعہ طواف نہ کریں اور کسی اگلے سال پر ملتوی کر دیں۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”ایشیاء کے لوگوں میں دستور ہے کہ جب وہ کسی سے بات منوانا چاہتے ہوں تو منت کے طور پر دوسرے کی داڑھی کو ہاتھ لگاتے ہیں یا اپنی داڑھی کو ہاتھ لگا کر کہتے ہیں کہ دیکھو! میں بزرگ ہوں اور قوم کا سردار ہوں میری بات مان جاؤ۔چنانچہ اس سردار نے بھی منت کے طور پر آپ کی داڑھی کو ہاتھ لگایا۔یہ دیکھ کر ایک صحابی آگے بڑھے اور اپنی تلوار کا ہتھا مار کر سردار سے کہا اپنے ناپاک ہاتھ پیچھے ہٹاؤ۔سردار نے تلوار کا ہتھا مار نے والے کو پہچان کر کہا تم وہی ہو جس پر میں نے فلاں موقع پر احسان کیا تھا۔یہ سن کر وہ صحابی خاموش ہو گئے اور پیچھے ہٹ گئے۔سردار نے پھر منت کے طور پر آپ کی داڑھی کو ہاتھ لگایا۔کہتے ہیں کہ ہمیں اس سردار کے اس طرح ہاتھ لگانے پر سخت غصہ آرہا تھا مگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا شخص نظر نہ آتا تھا جس پر اس سردار کا احسان نہ ہو اور اس وقت ہمارا دل چاہتا تھا کہ کاش! ہم میں سے کوئی ایسا شخص ہوتا جس پر اس سردار کا کوئی احسان نہ ہو۔اتنے میں ایک شخص ہم میں سے آگے بڑھا جو سر سے پاؤں تک خود اور زرہ میں لپٹا ہوا تھا اور بڑے جوش کے ساتھ سر دار سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ہٹالو اپنانا پاک ہاتھ۔یہ حضرت ابو بکر تھے۔“ جنہوں نے یہ کہا تھا۔”سر دار نے جب ان کو پہچانا تو کہا ہاں میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ تم پر میرا کوئی احسان نہیں ہے۔ذوالقعدہ چھ ہجری میں صلح حدیبیہ کے موقع پر جب صلح نامہ لکھا گیا تو اس معاہدے کی دو نقلیں تیار کی گئیں اور بطور گواہ کے فریقین کے متعدد معززین نے ان پر اپنے دستخط کیے۔مسلمانوں کی طرف سے دستخط کرنے والوں میں سے حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت ابو عبیدہ بن جراح تھے۔یہ سیرت خاتم ༡༠༡ النبیین سے ماخوذ ہے۔10 270 269" رض