اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 100

حاب بدر جلد 2 صلح حدیبیہ 100 حضرت ابو بکر صدیق صلح حدیبیہ کے حوالے سے لکھا ہے جیسا کہ گذشتہ خطبات میں ذکر ہو چکا ہے کہ آنحضرت صلی علیکم نے ایک خواب دیکھی کہ آپ کی تعلیم اپنے صحابہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔اس خواب کی بنا پر آنحضرت مصلی تمیز کم چودہ سو صحابہ کی جمعیت کے ساتھ ذوالقعدہ چھ ہجری کے شروع میں پیر کے دن بوقت صبح مدینہ سے عمرے کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوئے۔263 جب رسول اللہ صلی علیم کو معلوم ہوا کہ کفار مکہ نے آپ صلی یی کم کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی تیاری کرلی ہے تو آپ صلی للی کرم نے صحابہ سے مشورہ طلب کیا۔حضرت ابو بکر نے مشورہ دیتے ہوئے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم تو محض عمرے کے لیے آئے ہیں ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے۔میری رائے یہ ہے کہ ہم اپنی منزل کی طرف جائیں۔اگر کوئی ہمیں بیت اللہ سے روکنے کی کوشش کرے گا تو ہم اس سے لڑائی کریں گے۔264 صلح حدیبیہ کے موقع پر جب قریش کی طرف سے باہم گفت وشنید کے لیے وفود کا سلسلہ شروع ہوا تو عروہ آپ کے پاس آئے اور نبی کریم صلی علی کم سے گفتگو کرنے لگے۔عروہ نے کہا محمد (صلی اللیل ) ! بتاؤ تو سہی اگر تم نے اپنی قوم کو بالکل نابود کر دیا تو کیا تم نے عربوں میں سے کسی عرب کی نسبت سنا ہے جس نے تم پہلے اپنے ہی لوگوں کو تباہ کر دیا ہو؟ اور اگر دوسری بات ہو یعنی قریش غالب ہوئے تو اللہ کی قسم ! میں تمہارے ساتھیوں کے چہروں کو دیکھ رہا ہوں جو اِدھر اُدھر سے اکٹھے ہو گئے ہیں وہ بھاگ جائیں گے اور تمہیں چھوڑ دیں گے۔یہ سن کر حضرت ابو بکرؓ نے عروہ بن مسعود سے نہایت سخت الفاظ میں کہا کہ جاؤ جاؤ جا کر اپنے بت لات کو چومتے پھر یعنی اس کی پوجا کرو۔اس پر عروہ نے پوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ابو بکر گروہ نے کہا دیکھو اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر تمہارا مجھ پر ایک احسان نہ ہو تا جس کا میں نے ابھی تک تمہیں بدلہ نہیں دیا تو میں اس کا تمہیں جواب دیتا۔حضرت ابو بکر کا احسان یہ تھا کہ ایک معاملے میں عروہ پر دیت جب واجب ہوئی تو حضرت ابو بکر نے دس گا بھن اونٹنیوں کے ساتھ اس کی مدد کی تھی۔بہر حال عُروہ نے یہ کہا اور آنحضرت صلی الی ہم سے باتیں شروع کر دیں۔صلح حدیبیہ اور حضرت عمرہ کی گفتگو صلح حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت صلی علیم کے ساتھ قریش کا معاہدہ ہو رہا تھا۔حضرت عمر بن خطاب کہتے تھے کہ میں نبی صلی علیکم کے پاس آیا اور میں نے کہا کیا آپ بیچ بیچ اللہ کے نبی نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔میں نے کہا کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور ہمارا دشمن باطل پر ؟ آپ صلی الیکم نے فرمایا کیوں نہیں۔میں نے عرض کیا تو پھر ہم اپنے دین سے متعلق ذلت آمیز شر طیں کیوں مانیں؟ آپ صلی علیکم نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی نہیں کروں گا۔وہ میری مدد کرے گا۔یعنی اگر میں شر طیں مان رہا ہوں تو یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں ہے۔فرمایا کہ وہ میری مدد کرے گا۔میں نے