اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 99 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 99

اصحاب بدر جلد 2 99 حضرت ابو بکر صدیق دونوں کی حالت مشورے میں کئی طرح کی ہے جیسے جبرائیل اور میکائیل اور نوح اور ابراہیم علیہ السلام کی مثال ہے۔260 نبی کریم صلی الم نے جب بنو قریظہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو اس حوالے سے ایک روایت میں مذکور ہے۔عائشہ بنت سعد نے اپنے والد سے بیان کیا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی للی کم نے مجھ سے فرمایا۔اے سعد ! آگے بڑھو اور ان لوگوں پر تیر چلاؤ۔میں اس حد تک آگے بڑھا کہ میرا تیر اُن تک پہنچ جائے اور میرے پاس پچاس سے زائد تیر تھے جو ہم نے چند لمحوں میں چلائے گویا ہمارے تیر ٹڈی دل کی طرح تھے۔پس وہ لوگ اندر گھس گئے اور ان میں سے کوئی بھی جھانک کر باہر نہ دیکھ رہا تھا۔ہم اپنے تیروں کے متعلق ڈرنے لگے کہ کہیں وہ سارے ہی ختم نہ ہو جائیں۔پس ہم ان میں سے بعض تیر چلاتے اور بعض کو اپنے پاس محفوظ رکھتے۔261 حضرت کعب بن عمر و مازنی بھی تیر چلانے والوں میں سے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس روز جتنے تیر میرے ترکش میں تھے وہ سارے چلائے یہاں تک کہ جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو ہم نے ان لوگوں پر تیر چلانابند کر دیے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم تیر اندازی کر چکے تھے اور رسول اللہ صلی عید کی اپنے گھوڑے پر سوار تھے اور آپ صلی ا یکم مسلح تھے اور گھڑ سوار آپ کے ارد گرد تھے۔پھر آپ صلی الم نے نہیں ارشاد فرمایا تو ہم اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹ آئے اور ہم نے رات گزاری۔اور ہمارا کھانا وہ کھجوریں تھیں جو حضرت سعد بن عبادہ نے بھیجی تھیں اور وہ کھجوریں کافی زیادہ تھیں۔ہم نے رات ان کھجوروں میں سے کھاتے ہوئے گزاری۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو دیکھا گیا کہ وہ بھی کھجوریں کھا رہے تھے۔رسول اللہ صلی علی کرم فرماتے کہ کھجور کیا ہی عمدہ کھانا ہے۔حضرت سعد بن معاذ نے جب بنو قریظہ کے متعلق فیصلہ کیا تو رسول اللہ صلی ا ہم نے ان کی تعریف کی اور فرمایا کہ تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔اس پر حضرت سعد نے دعا کی کہ اے اللہ ! اگر تو نے آنحضرت صلی علم کی قریش کے ساتھ کوئی اور جنگ مقدر کر رکھی ہے تو مجھے اس کے لیے زندہ رکھ اور اگر آنحضرت صلی اللہ یکم اور قریش کے درمیان جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے تو مجھے وفات دے دے۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ ان کا زخم کھل گیا حالانکہ آپ تندرست ہو چکے تھے اور اس زخم کا معمولی نشان باقی رہ گیا تھا اور وہ اپنے خیمے میں واپس آگئے جو رسول اللہ صلی علی یم نے ان کے لیے لگوایا تھا۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی ال یکم اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ان کے پاس تشریف لائے اور حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد علی ایم کی جان ہے کہ میں حضرت عمر کے رونے کی آواز کو حضرت ابو بکڑ کے رونے کی آواز سے الگ پہچان رہی تھی جبکہ میں اپنے حجرے میں تھی۔یعنی اس وقت جب حضرت سعد کی نزع کی کیفیت طاری ہوئی، تو یہ دونوں رورہے تھے۔میں اپنے حجرے میں تھی اور وہ ایسے ہی تھے جیسے کہ اللہ عز و جل نے فرمایا ہے رُحَمَاءُ بَيْنَهُم (30) یعنی آپس میں ایک دوسرے سے بے حد محبت کرنے والے ہیں۔262