اصحاب احمد (جلد 9) — Page 72
۷۲ الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِى هَدْنَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَنَا اللهُ - والدین نے مجھے اپنی خاص ضرورت کے ماتحت اہم اور ضروری کام کے لئے بھیجا تھا۔مجھے افسوس ہے اور ہمیشہ ہی رہا ہے اور شرمندہ ہوں کہ میں نے ان کو سخت تکلیف پہنچائی جس کی تلافی میرے لئے ممکن نہیں۔آڑے وقت میں میں ان کے کام نہ آسکا۔اور ان کو سخت انتظار اور تکلیف میں مبتلا کرنے کا موجب بنا۔مگر اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کوئی دنیوی طمع اس امر کا موجب نہیں ہوا۔ورنہ واقعی مستوجب صد لعنت ہوتا۔یہ امر ایک ایسی وارفتگی میں ہوا جس میں میری کوشش کو کوئی دخل نہ تھا۔بلکہ سارے ہی سامان اس کے لئے خود اللہ تعالیٰ نے غیب سے مہیا کئے تھے۔اور جس نیت سے میں نے یہ کام کیا۔اس کے مقابلہ میں ہزار والدین اس کام سے روکنے والے بھی قربان کرتا تو مجھ پر الزام نہ تھا۔البتہ میں نے والدین سے حسن سلوک اور خدمت کے ذریعہ ان اثرات کو مٹانے کی کوشش کی اور با وجود اتنے بھاری اختلاف اور اتنے شدید صدمہ کے والدین بعد میں مجھ سے خوش ہو کر راضی بقضا ہو گئے تھے۔اور ا کثر میرے پاس آتے اور مہینوں خوشی خوشی ٹھہرتے تھے۔میں قادیان پہنچا اور اس طرح پھر ایک مرتبہ مجھے میرا رب کریم میرے آقا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں لے آیا۔حضور نے فرمایا تھا کہ ”ہمارا ہے تو آ جائے گا“۔میں کمہاروں بقیہ حاشیہ: - اس ناکامی سے بہت افسردہ ہوئے۔پھر کسی گھر یلو ضرورت کے لئے ایک بڑی بوڑھی رشتہ دار کو لانے کے لئے بھائی جی کو بھیجا گیا۔آپ وہاں سے سیالکوٹ اور اس سے اگلے روز قادیان پہنچ گئے۔ے رمئی کے بعد یہ سب کچھ کم سے کم دس پندرہ دن میں وقوع پذیر ہوا ہو تب بھی بھائی جی ۱۷ یا ۲۲ رمئی سے قبل قادیان نہیں پہنچے بہر حال اس قدر ثابت ہو گیا کہ یکم مئی کو آپ مالیر کوٹلہ میں نہیں تھے کیونکہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کی شدید علالت کی خبر کے بعد پھر کوئی اطلاع نہ آنے کے باعث یکم مئی کو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے خط لکھ کر نواب محمد علی خان صاحب سے استفسار کیا ہے۔( خط مندرجہ جلد ۲ صفحہ ۱۰۱،۱۰۲) سومعلوم یہ ہوتا ہے کہ متن ہذا میں آپ کا بیان کہ آخر جولائی یا آغاز اگست میں آپ واپس پہنچے یہی درست ہے گویا واپس پہنچنے سے قبل حضرت مولوی نور الدین صاحب مالیر کوٹلہ جاچکے تھے اور بعد میں حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب بھی چونکہ آپ زیادہ مانوس بھائی جی سے تھے۔ان کو قادیان میں نہ پا کر آپ اداس ہوئے اور اجازت منگوا کر آپ بھی مالیر کوٹلہ چلے گئے۔