اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 73 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 73

۷۳ کے محلہ کے غربی جانب سڑک پر ہی یکہ سے کود پڑا۔اور جلد جلد قدم اٹھاتے ہوئے مہمان خانے سے متصل موڑ پر پہنچا تھا کہ میرے بعض پرانے دوستوں اور بزرگوں نے مجھے دیکھ لیا۔وفور محبت میں گلے لگایا اور لمبی جدائی کے صدموں اور مفارقت کے داغوں کو طرفین نے اپنی آنکھوں کے پانی سے دھویا۔مرحبا اور جزاک اللہ کی دعائیں۔شاباش اور مبارکباد کی صدائیں کچھ اس طرح فضا میں گونجنے لگیں کہ آن کی آن میں سارا ڈیرہ میرے گرد جمع ہو گیا اور ایک دوسرے سے بڑھ کر یوں اظہار محبت واخوت کرنے اور خوشی و ہمدردی بتانے لگے کہ حقیقی بھائی بہنوں میں بھی شاذ ہی ایسا نظارہ دیکھنے میں آتا ہو۔اور ہر ایک نے مجھے گلے لگایا۔حضرت مولانا نورالدین کو آپ کے مطب میں میرے آ جانے کی کسی نے اطلاع پہنچا دی تھی۔میرے سلام کے جواب میں سروقد کھڑے ہو گئے اور نہایت شفقت سے گلے لگا کر دعائیں دیں اور محبت سے اپنے پاس بیٹھا لیا۔کسی گہرے خیال اور پرانی بات کے تصور میں حضور سمیت ساری مجلس پر ایک سکتہ کا عالم تھا اور ابھی کوئی بات شروع نہ ہونے پائی تھی کہ مسجد مبارک کی بلندی سے الله اکبر اللہ اکبر کی پر جلال ندا نے اس خموشی اور سکوت کو تو ڑا اور مجلس نماز کے لئے برخاست ہوگئی۔میں جلد جلد وضو کر کے مسجد مبارک میں پہنچا۔ظہر کی نماز کی سنتیں ادا کیں۔اتنے میں حضرت مولانا عبد الکریم صاحب تشریف لے آئے۔میں نے سلام کیا۔بہت محبت سے ملے۔اور مجھے دیکھ کر اپنی عادت کے مطابق بہت ہی خوشی کا اظہار فرمایا اور کچھ ایسے رنگ میں میرے واپس آ جانے کے عمل کی تعریف فرمائی کہ اس کا ذکر کرنے سے بھی شرماتا ہوں۔میرے حالات پوچھ ہی رہے تھے کہ خدا کے برگزیدہ مسیح موعود جرى الله في حلل الانبیاء بیت الفکر سے مسجد مبارک میں تشریف فرما ہوئے۔میں جوش نیازمندی اور محبت وعقیدت میں آگے بڑھا۔مصافحہ کیا ، ہاتھوں کو چوما اور قدموں میں گرا۔حضور نے دست شفقت سے نوازا اور تلطف سے اٹھایا اور فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ آ گئے بہت اچھا ہوا۔آپ کے والد صاحب نے وعدہ کا پاس نہ کیا اور آپ کو روک کر تکلیف میں ڈالا۔ہمیں بہت فکر تھی مگر شکر ہے کہ آپ کو اللہ نے ثابت قدم رکھا اور کامیاب فرمایا۔مومن قول کا پکا اور وفادار ہوتا ہے۔نماز با جماعت شروع ہو گئی۔اور حضور نماز کے بعد اندر تشریف لے گئے۔پھر اسی روز یا دوسرے دن وہ کاغذ معاہدہ جو حضور نے میرے والد صاحب سے لکھوا کر مجھے ان کے ساتھ چلے جانے کا حکم دیا تھا اور حضور نے اسے محفوظ رکھا ہوا تھا نکال کر مجھے بھجوایا۔جس کی غرض ظاہر ہے کہ میری تربیت فرمانا اور میرے ایمان کو زیادہ مضبوط بنانا تھی۔