اصحاب احمد (جلد 9) — Page 71
والدین کے فیصلہ کے ساتھ ہی میں نے بھی ایک فیصلہ کر لیا تھا۔گاڑی آنے والی تھی۔سیالکوٹ کا ٹکٹ لے کر بسم الله مجریھا ومرسھا کہتا ہوا سوار ہو گیا۔قادیان میں مراجعت اور حضرت اقدس کی زیارت ☆ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں سیالکوٹ پہنچا اور حضرت میر حامد شاہ صاحب اور احباب سے مل کر اگلے روز تو کلاعلی اللہ قادیان دارالامان کا قصد کر کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں کم و بیش نو ماہ بعد آخر جولائی یا آغاز اگست ۱۸۹۶ء میں آپہنچا۔* حمد الحکم جلد ۴۱ نمبر ۱۸ ، ۱۹ بابت ۷ ۱۴ رجون ۱۹۳۸ء کا یہ خلاصہ عنوان قادیان میں مراجعت اور حضرت اقدس کی زیارت تا عنوان ”والدین سے حسن تعلقات ( طبع اوّل صفحہ اے تا ۸۷ ) میں درج کیا گیا ہے۔* بھائی جی کی ایک روایت متن میں بیان کردہ زمانہ واپسی سے مختلف ہے، جس کے متعلق اپنی رائے تحریر کرتا ہوں۔اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۹۸، ۹۹ میں آپ بیان فرماتے ہیں کہ میں والدین کے پاس سے مارچ یا اپریل ۱۸۹۶ء میں واپس آ گیا تھا۔کیونکہ لکڑی کے موسم کا آغاز تھا۔میری واپسی کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے تھے۔اپنا سبق بند ہو جانے کے متعلق حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب نے لکھا تو حضرت مولوی صاحب نے ان کو وہاں منگوا لیا۔پھر بھائی جی نے حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب کو لکھا کہ میرا سبق بند ہو گیا ہے تو بھائی جی کو بھی وہاں بلوالیا گیا۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب جو وہاں سخت بیمار ہو گئے یہ واقعہ بھی بھائی جی بیان کرتے ہیں میرے سامنے کا ہے۔میرے نزدیک آپ کی اس روایت میں سہو واقع ہوا ہے۔اس لئے کہ اپنے حالات میں جو متن میں درج ہیں آپ کی بات بتاتے ہیں کہ والدہ صاحبہ ایک معقولہ کہتی تھیں کہ جیٹھ کے مہینے کا سفرموت کے برابر ہوتا ہے۔جس سے میں اندازہ کرتا ہوں کہ مئی جون کا یہ سفر ہو گا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جنتری کی رو سے ۱۸۹۶ء میں جیٹھ ۲۸ اپریل تا ۲۶ مئی تھا۔اگر پہلے دس دن جیٹھ کے سفر کیا ہو تب بھی ےرمئی تک کیا۔اس کے بعد نہر میں نا کہ پڑنے کا واقعہ ہوا۔جس میں آپ کے کام سے انگریز اور دیسی حکام خوش ہوئے۔بعد میں ان کی خوشنودی سے استفادہ کر کے افسران سے والد صاحب نے امتحان کی اجازت بھائی جی کو دلوا کر امتحان کے لئے گوجرانوالہ بھیجا لیکن امتحان کی اجازت نہ ملی۔پھر والدین کے پاس واپس آئے اور والد