اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 64 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 64

۶۴ مٹادوں۔مگر اس وقت گھر میں صرف ایک بے زبان عورت یعنی میری اہلیہ اور میری ہمشیرہ کے سوا کوئی نہ تھا۔جو دونوں میری اس کیفیت سے خوفزدہ اور ہراساں تھیں۔اور ممکن ہے کہ ان کو اس معاملہ کا علم ہی نہ ہو۔میں نے کمرہ میں بند ہو کر روروکر دل کی بھڑ اس نکالی اور ٹھنڈا ہو گیا۔یہ ظلم کرنے والوں نے تو اپنے خیال میں میرے ایمان کی عمارت ہی کو مسمار کر دیا اور میری تو جہات کے مرکزی قلعہ کو گرا کر مجھے بے سروسامان کر دیا تھا۔مگر حقیقتا ان کے اس ظلم سے میرے اندر نور ایمان کی شعاعیں اور زیادہ تیز ہو کر چمکنے لگیں اور محبت و عشق اور صدق و وفا کے جذبات زیادہ مضبوطی اور تیزی سے میرے دل میں شعلہ زن ہونے لگے۔جوں جوں انہوں نے مجھے دبانے اور مٹانے کی کوشش کی توں توں اللہ کریم نے مجھے اٹھنے اور ابھرنے کی توفیق بخشی اور وہ شب و روز انتہائی مظالم تک کا مجھے نشانہ بناتے رہے۔قید و بند سے گذر کر انتہائی تشدد کیا جاتا رہا اور اکثر ایسا ہوا کہ جان تک لے لینے کی کوشش کی گئی۔مگر اللہ کریم کی باریک در بار یک مصلحتوں کے ماتحت آخر کوئی نہ کوئی راہ میری سلامتی اور جانبری کی پیدا ہو ہی جایا کرتی رہی جس سے متاثر ہو کر گاہ بگاہ والدین کے منہ سے نکل ہی جایا کرتا تھا۔پر میشور جانے یہ کیسا ہی سخت جان واقع ہوا ہے کہ نہ مارے مرتا ہے نہ کاٹے کتا ہے۔“ یہ وہ رنج وغم اور درد و کرب کا زمانہ تھا کہ اس کی یاد آج بھی مجھ پر کپکپی سی پیدا کر دیتی ہے اور میں اس کو بھلا دینے کے لئے آنکھیں بند کر لیا کرتا ہوں۔اسی زمانہ میں مجھے فرائض کی ادائیگی تک سے محروم کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔مجھ پر بھاری پہرہ اور کڑی نگرانی مقررتھی۔اس زمانہ میں بعض اوقات کئی کئی نمازیں ملا کر یا اشاروں سے پڑھتا تھا۔ایک روز علی الصبح میں گھر سے باہر قضائے حاجت کے بہانے سے گیا۔گیہوں کے کھیتوں کے اندر وضو کر کے نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک شخص کدال لئے میرے سر پر کھڑا رہا۔نماز کے اندر تو یہی خیال تھا کہ کوئی دشمن ہے جو جان لینے کے لئے آیا ہے۔لہذا میں نے نماز کو معمول سے لمبا کر دیا اور آخری نماز سمجھ کر دعاؤں میں لگا رہا۔مگر سلام پھیرنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک مسلمان مزدور تھا۔کشمیری قوم کا جو مجھے نماز پڑھتے دیکھ کر بہت خوش ہوا۔اور جب میں نماز سے فارغ ہوا۔تو اس نے نہایت محبت اور خوشی کے جوش میں مجھ سے پوچھا۔منشی جی ! کیا یہی پکی بات ہے کہ آپ مسلمان ہیں؟ تو میں نے کہا کہ ہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام پر قائم ہوں اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے لئے گواہ بنا کر بھیجا ہے کہ کم از کم تم میرے اسلام کے شاہد رہو گے۔شاید یہی وجہ ہے کہ تم نے مجھے عین حالت نماز میں دیکھا اور نہ میں نے پوری احتیاط کر لی تھی