اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 63 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 63

۶۳ تگ ود و چونکہ امر واقعہ سے ناواقفیت پر مبنی تھی جو ابتداء سے لے کر انتہا تک متواتر کئی ماہ انہوں نے جاری رکھی اور با وجود استقلال کے وہ کامیابی کا منہ نہ دیکھ سکے۔وہ حقیقی اور زندہ اسلام اور اس کے اثر وجذب سے بے خبر تھے۔ان کو اس بات کا علم ہی نہ تھا کہ صورت ایمان میسر آ جانے کے بعد انسان کیا سے کیا ہو جاتا ہے۔ورنہ شاید نہ وہ اتنی سرگردانی کی زحمت اٹھاتے نہ اپنے مال ومنال کو یوں اڑاتے اور نہ ہی وہ مجھے طرح طرح کی اذیت پہنچا کر خون جگر کھاتے بلکہ پہلے ہی صبر کر بیٹھتے۔اصلیت بھی یہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہی میری دستگیری فرما کر اس نورا اسلام سے منور نہ کیا ہوتا تو شاید ان کی ترغیب و تحریص اور مسلسل و سرگرم مساعی کا کوئی نتیجہ کسی نہ کسی رنگ میں دیکھنا ان کو نصیب ہو ہی جاتا۔مگر یہاں تو مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔“ والا معاملہ تھا۔اس بیمار محبت و وفا“ کا مرض بجائے گھٹنے کے بڑھتا ہی گیا اور ان کی ساری مساعی اس کشت ایمان کو کھاد ہو کر لگتی رہیں۔اقارب کا اوچھے ہتھیاروں پر اتر آنا چند روز تک والدین اور اقارب کی سرگرمیاں اور مساعی بھی جاری رہیں۔کبھی نرمی ہوتی تھی اور کبھی گرمی آ جاتی تھی۔کبھی پیار ومحبت بلکہ منت و سماجت سے کام لیا جاتا تھا۔تو کبھی تنگ ہو کر درشتی وسختی اور ناراضگی و تشدد بھی برتا جاتا تھا۔غرض چند روز متواتر یہی سلسلہ خاص اہتمام اور تسلسل سے جاری رہا۔اور جب انہوں نے دیکھا کہ کامیابی کی کوئی راہ باقی نہیں اور ان کے سارے حیلے ختم ہو چکے ہیں تو مایوس ہو کر اپنے آخری اور اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے۔ایک روز علی الصباح جبکہ میں حسب معمول تلاوت کے لئے قرآن شریف لینے کو اس کمرہ میں گیا جہاں میں نے اس کو الگ اور ممتاز جگہ رکھا ہوا تھا تو میں نے اس کو وہاں نہ پایا۔نہ میرا قرآن شریف وہاں تھا اور نہ دوسری کتب۔میں نے ادھر ادھر ہاتھ مارنے شروع کئے بعد از بسیار تلاش یہ معلوم ہوا کہ کسی نے یہ ظلم کیا ہے کہ قرآن شریف اور دوسری کتب کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے اور آثار سے ظاہر ہوا کہ سگندلی اور قساوت کا مظاہرہ ان مقدس کتب کو جلا دینے کے رنگ میں بھی کیا گیا تھا۔میرے سینہ میں رنج و درد اور حقارت و نفرت کے جذبات سے گویا ایک قسم کی ایسی سٹیم پیدا ہو کر بھر گئی کہ اگر میں صبر وضبط سے کام نہ لیتا تو وہ گھر بھر کو جلا کر راکھ کر دیتی۔یا ایسا ظلم وستم کرنے والوں اور ان کے حامیوں کے پر خچے اڑا دیتی۔میری آنکھوں میں خون اتر آیا۔درد دل کی شدت سے میرا سارا جسم کانپنے لگا۔جوش اٹھا کہ گھر کو آگ لگا کر راکھ کا ڈھیر بنا دوں یا کدال سے گرا کر اس کا نام ونشان