اصحاب احمد (جلد 9) — Page 65
کہ کوئی مجھے دیکھنے نہ پائے وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا۔حضرت مولوی خدا بخش صاحب کا آنا اور بفضل ابیچ کے جانا اسی تیرہ و تار اور پر ظلم و ظلمات کے زمانہ میں جبکہ مجھے قادیان سے آئے ہوئے عرصہ ہو گیا اور میری طرف سے کوئی خیر خیریت کی اطلاع دار الامان میں نہ پہنچی تو میرے بزرگوں اور بھائیوں کے دل میں تشویش پیدا ہوئی اور میری خبر گیری و امداد کا جوش اٹھا جس کے نتیجہ میں علاوہ دعاؤں کے جو انہوں نے میری مشکلات کے زمانہ میں میرے لئے کیں۔ایک نیک دل اور پاک نفس انسان کو ( جن کا نام نامی حضرت مولوی خدا بخش صاحب جالندھری تھا۔درمیانہ قد سیاہ فام عمر رسیدہ بزرگ جو اس زمانہ ہی میں حنا کیا کرتے تھے ) دریافت حال کی غرض سے میرے پیچھے بھیجا گیا۔وہ بزرگ اپنے اندر تبلیغ اسلام کا ایک جوش رکھتے تھے اور عموما سیا حانہ زندگی کے عادی واعظ تھے۔وہ بزرگ قریہ یہ قریہ پھرتے ہوئے طویل اور سخت سفروں کی تکالیف برداشت کرتے ہوئے ایک لمبے عرصہ کے بعد مجھ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔اور بمشکل میرے متعلق صرف اتنی خبر پا سکے کہ عبدالرحمن زندہ ہے مسلمان ہے اور کہ انہوں نے خود عبد الرحمن کو زندہ دیکھا اور اسلام کی تصدیق کرائی ہے بس۔ایک روز صبح کے وقت جبکہ سورج کچھ بلند ہو چکا تھا اور والد صاحب باہر جاچکے تھے۔گھر کے لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے اچانک میرے دل میں کچھ گدگدی سی ہوئی۔اور از خود رفتنگی پیدا ہو کر ایک ابال اٹھا جس سے بے قرار ہو کر میں کمرہ سے نکل کر صحن میں ٹہلنے لگا۔ادھر ادھر دو چار ہی چکر لگائے ہوں گے کہ منشی جی کی ایک دھیمی اور لرزتی ہوئی آواز کان میں پڑی۔دل کسی ترغیب غیبی کے ماتحت پہلے ہی سے گوش ہوش بنا ہوا تھا۔ادھر آواز میں ایک قسم کا تعارف اور شناسائی سی محسوس ہوئی۔جھٹ دروازہ کھول کر باہر جا کھڑا ہوا۔جدھر سے آواز آئی تھی آنکھیں ادھر کو گاڑ دیں مگر سامنے کوئی نظر نہ آیا۔آخر چند قدم حرکت کر کے آگے بڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی بزرگ مولوی خدا بخش نامی جو ایک پہلو کے جھاڑ کی اوٹ کھڑے تھے سامنے ہو کر السلام علیکم بولے میں نے وعلیکم السلام حضرت مولوی خدا بخش صاحب کے مزید ذکر کے لئے دیکھئے اصحاب احمد جلد ہشتم میں مندرجہ حالات ماسٹر عبد الرحمن صاحب سابق مہر سنگھ۔