اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 62 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 62

۶۲ رات قریباً ایسی ہی کشمکش اور گریہ وزاری میں بیت گئی۔والدہ اور ہمشیرہ نہ سوئیں اور نہ ہی انہوں نے مجھے سونے دیا۔مطالبہ ان کا سخت تھا جس کے لئے انہوں نے کبھی محبت اور پیار کی انتہا کر دی تو کبھی گریہ و بکا کی کوئی حد نہ رہنے دی۔کبھی قومی حمیت اور خاندانی عزت کے واسطے تو کبھی ننگ و ناموس پر جان نثار کرنے دینے والے اسلاف کے تذکرے سنا سنا کر اپنے مطلب کا بنانے کی کوشش کی۔اور جان تک کا خوف دلایا تو کبھی اپنی جانوں پر کھیل جانے اور میرے سر چڑھ مرنے کی دھمکیاں دیں۔آپ کا جذبہ استقلال و استقامت والد صاحب نے گو اس وقت کوئی دخل نہ دیا مگر اس ساری کارروائی کو پاس ہی لیٹے دیکھا سنا کئے۔کبھی کبھی کوئی فقرہ والدہ محترمہ کی تائید یا ہمشیرہ عزیزہ کی حمایت میں فرما دیتے تھے۔اور اس طرح گویا بالواسطہ وہ بھی وہی کام کر رہے تھے۔مگر مطالبہ ان کا ایسا سخت اور ایسا کڑا تھا کہ اس کے مقابلہ میں ان کے سارے ہی ہتھیار کند اور سکتے اور ہر قسم کی کوششیں بے کار اور بے سود تھیں اور میں ان کو قبول کرنے کے لئے نہ انتہائی خوف کی وجہ سے تیار تھا نہ انتہائی طمع ومحبت مجھے اس کے لئے آمادہ کر سکتی تھی۔اور جس غیرت وحمیت کا واسطہ مجھے دیا جاتا تھا وہی غیرت وحمیت مجھے اپنے مقام پر قائم اور ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتی اور جو کارنامے سنا سنا کر مجھے اپنے مقام سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی تھی۔اس سے ہزار ہا درجہ بہتر و اعلیٰ اور حقیقی کارنامے اسلام کی خاطر قربانیاں کرنے والوں کے میرے پیش نظر تھے جن کا زندہ نمونہ اور تازہ مثالیں اللہ تعالیٰ نے مجھے دیکھنے کا نہ صرف موقعہ دیا بلکہ ان کی صحبت میں رہ کر ان کی قوت قدسی اور روحانیت سے متمتع ہونے کی سعادت نصیب کی جس کی برکت اور طفیل سے میرے بزرگوں اور محسنوں کے قومی سے قوی دلائل اور کاری سے کاری حربے بھی میرے لئے بیچ اور بے اثر تھے۔والدہ اور ہمشیرہ کے جذباتی تاثرات بھی میرے قلب کے اس لذت وسرور کو دور کرنے سے عاجز تھے۔گھر والے گر به کشتن روز اول“ کی فکر میں تھے۔ان کو اندیشہ تھا کہ بات نکل گئی تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔“ اور پھر اس کا کوئی علاج نہ ہو سکے گا ان کی ساری کوشش اور سعی اسی یقین، وثوق اور قوت وارادہ سے تھی۔کہ وہ ضرور کامیاب ہونگے کیونکہ جس رسمی اسلام کے خلاف ان کا جہاد تھا اور جن نام کے مسلمانوں کو مد نظر رکھ کر مجھے اسلام و مسلمانی سے پھیرنے کی کوشش کر رہے تھے اس لحاظ سے ان کا گمان ایک حد تک اپنے اندر کچھ حقیقت واصلیت بھی رکھتا ہوگا۔مگر وہ میرے متعلق ایک غلط فہمی کا شکار تھے اور ان کی ساری دو گربه