اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 398 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 398

۳۹۸ تابوت کو بند کر کے مسنون دعاؤں اور آنسوؤں کے ساتھ قبر میں اتار دیا گیا۔اور قبر تیار ہونے پر مکرم امیر صاحب نے قبر پر دعا کروائی۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار مبارک پر بھی اجتماعی دعا ہوئی۔احباب اس بزرگ صحابی کے سے متاع عزیز کے چھن جانے سے لٹے ہوئے قافلہ کی طرح لوٹے۔۲۵۵ انا بفراقك لمحزونون ولا نقول الا ما يرضى به ربنا اللهم اغفر له وارحمه وارفع درجاته في اعلی علین۔آمین یارب العلمین۔درخواست دعا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی طرف سے جنازہ کے لاہور پہنچنے سے قادیان میں تدفین تک کے بارے مختصر نوٹ شائع ہوا۔جس میں دونوں طرف کے بارڈر کے حکام کے شریفانہ سلوک کی آپ نے تعریف فرمائی۔نیز احباب کو تحریک فرمائی کہ درویشوں کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔حضرت بھائی جی کو پاکستان جانے میں ہمیشہ تر درد ہونا ۲۵۶ حضرت بھائی جی کی اہلیہ محترمہ پاکستانی شہری ہیں۔اور انہوں نے اس بناء پر ہندوستانی شہریت حاصل نہیں کی کہ میں اپنے خاوند کی خدمت کے لئے قادیان میں مقیم رہوں گی۔اگر ان کا انتقال ہو گیا تو قادیان میں بچوں کی عدم موجودگی کے باعث میرا یکہ و تنہا مقیم رہنا حد درجہ تکلیف دہ ہوگا۔اس لئے وہ بی ویزا پر جس میں بہ یک وقت دو ماہ کے قیام کی اور ایک سال میں آٹھ دفعہ آمد ورفت کی اجازت ہے آتی تھیں۔دو ماہ کے بعد لازم بارڈر عبور کرنا پڑتا تھا۔اس لئے کئی بار جب ان کا ارادہ کراچی جانے کا ہوتا یا نیا ویزا لینے کی ضرورت ہوتی تو سید نا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ سے اجازت منگوا کر بھائی جی کو بھی ہمراہ لے جاتیں تا کہ بھائی جی کی صحت پر اچھا اثر پڑے۔بغیر اجازت کے حضرت بھائی کبھی بھی پاکستان نہ جاتے تھے۔بعض اوقات تار کے ذریعہ بھی اجازت موصول ہوتی تھی۔یہ امر واقعہ ہے کہ محترمہ آپ کی بہت خدمت کرتی تھیں۔تہجد کے وقت سے جبکہ بھائی جی چائے پیتے تھے۔رات تک پورے انہماک اور وقت کی پابندی سے غذا کا خیال رکھتیں۔اور بھائی جی بھی ان کا پورا احترام فرماتے اور خیر کم خیر کم لاهله کا نمونہ دکھاتے۔البتہ پاکستان جانے سے سخت گھبراتے تھے۔جب بھی آپ کو لے جانا ہوتا تو اماں جی ( آپ کی اہلیہ محترمہ ) ایک طویل عرصہ کبھی دو دو ماہ قبل سے