اصحاب احمد (جلد 9) — Page 397
۳۹۷ میں گہرے رنج و افسوس کی لہر دوڑ گئی۔غمناک دلوں اور اداس چہروں کے ساتھ وہ ایک دوسرے سے تعزیت کرتے ہوئے حضرت بھائی جی کی بلند پایہ شخصیت اور حضرت مسیح موعود کی پاک صحبت سے آپ کے فیض یاب ہونے کی سعادت کے تذکرے کرنے لگے۔بلاشبہ آپ روحانی لحاظ سے ایک بڑا سہارا تھے۔درویشوں کو اس امر کا بھی صدمہ تھا کہ وہ اپنے اس بزرگ کی آخری زیارت سے بھی محروم رہ گئے۔اگلے روز صبح حضرت میاں صاحب کا تار موصول ہوا کہ جنازہ ربوہ سے براستہ لاہور قادیان آ رہا ہے یہ خبر مجروح دلوں کے لئے مرہم ثابت ہوئی۔اس میں یہ بھی ارشاد تھا کہ ایک پارٹی بارڈر پر لینے کے لئے پہنچ جائے۔پونے 9 بجے رات کے قریب جنازہ قادیان پہنچا۔مکرم مولوی عبدالرحمن صاحب امیر جماعت درویشوں کی ایک کثیر تعداد کے ہمراہ احمد یہ چوک میں موجود تھے۔باقی افراد کو گھنٹی بجا کر اطلاع کر دی گئی تھی احتیاطاً قبر کھد والی گئی تھی۔اور محلہ سے جنازہ گاہ تک اور وہاں سے بہشتی مقبرہ تک روشنی کا بھی انتظام کیا جا چکا تھا۔لیکن صبح کو دفن کرنے کا فیصلہ ہوا اور رات کو ہی اس کا اعلان کر دیا گیا۔اور جنازہ خزانہ دفتر محاسب کے پہرہ داروں کی تحویل میں دفتر بیت المال کے برآمدہ میں رکھا گیا۔قریباً نو بجے صبح تابوت مہمان خانہ خاص نمبر ۳ کے صحن میں رکھا گیا جہاں عورتوں بچوں اور مردوں نے بزرگ در ولیش بھائی کے نورانی چہرے کی آخری زیارت کی۔اس کے بعد ایک الفی جو حضرت بھائی جی نے امانتاً دفتر بہشتی مقبرہ میں دیر سے رکھوائی ہوئی تھی۔آپ کو پہنائی گئی۔( فائل وصیت کے مطابق مکہ مکرمہ کی مٹی بھی آپ نے اس الفی کے ساتھ رکھوائی تھی۔دفتر سے معلوم ہوا کہ یہ مٹی الفی کے ایک سرے پر بندھی تھی اور الفی پہناتے وقت اسی طرح بندھی رہنے دی گئی۔دس بجے کے قریب تابوت جنازہ گاہ لے جایا گیا۔جنازہ گاہ میں بھائی جی کی روایت اور نشاندہی کے مطابق جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جنازہ کی چار پائی رکھی گئی تھی۔اسی مقام پر آپ کی چار پائی رکھی گئی۔پانچ صفیں بنائی گئیں اور محترم امیر صاحب نے لمبی نماز جنازہ پڑھائی۔جس میں پانچ تکبیریں کہی گئیں۔بعد نماز جنازہ درویش باری باری کندھا دیتے ہوئے شاہ نشین کے پاس پہنچے۔تو مکرم امیر صاحب مقامی کے حکم سے تھوڑی دیر کے لئے چار پائی کو شاہ نشین کے اندر رکھا گیا۔جہاں حضرت اقدس اپنے صحابہ کرام کی معیت میں تشریف فرما ہوتے تھے۔اس کے بعد مزار مبارک کی چار دیواری کے گیٹ کے عین سامنے غربی جانب کے قطعہ نمبر ۳ میں تیار شدہ قبر کے پاس چار پائی رکھی گئی اور احباب نے آخری بار آپ کے مبارک چہرہ کی زیارت کی اور