اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 399 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 399

۳۹۹ تیار کرنا شروع کرتیں۔اور بھائی جی کا انشراح صدر نہ ہوتا۔فرمایا کرتے کہ میں شروع سے قادیانی کہلاتا ہوں۔تقسیم ملک کے وقت مجبوراً اور حکماً قادیان سے جانا پڑا۔شکر ہے کہ پھر دیار محبوب میں آنے کا موقعہ ملا۔موت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔اگر پاکستان میں آخری وقت آجائے۔اور میں قادیان میں دفن ہونے سے محروم رہ جاؤں تو میں کیونکر قادیانی ہوا۔مجھ پر ایک دائمی داغ لگار ہے گا کہ عمر بھر قادیانی کہلا کر اور ایسا کہلانے کو قابل فخر سمجھتا ہوا بالآ خر قادیانی بننے سے محروم رہا۔اور آپ سخت ہچکچاہٹ محسوس فرماتے۔اماں جی حضرت صاحب اور حضرت میاں صاحب سے خطوط منگواتیں کہ بھائی جی بچوں کو مل آئیں ان کو اجازت ہے بچوں کا بھی حق ہے اس پر بھائی جی استخارہ فرماتے اور بہت ہی تلملا ہٹ کے ساتھ اور روانگی کے وقت بار بار یہ کہتے ہوئے کہ دعا کریں خیریت سے واپس آؤں۔روانہ ہوتے۔مجھے یاد ہے کہ ایک ڈیڑھ ماہ قبل کی بات ہے کہ سامان سفر باندھنے اور کھانا تیار ہوجانے کے بعد روانگی کے وقت آپ نے جانے سے نہایت سختی سے انکار کر دیا کہ مجھے انشراح نہیں۔اگر میری موت وہاں واقع ہوگئی تو کیا ہوگا۔آپ کی اہلیہ محترمہ نے بہتیری منت سماجت کی۔دوسروں سے بھی کہلوایا لیکن آپ نے اس بارہ میں کسی کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔آپ جو اپنی رفیقہ حیات کی ہر بات ماننے کو ہمہ تن تیار ہوتے اس جذبہ کے مد نظر بات تک سننا پسند نہ کرتے۔نہ اماں جی کے کہنے پر ہم میں سے کسی کی سفارش قبول کرنے پر آمادہ ہوتے۔ادھر اماں جی سارے جتن لگاتیں اور فوائد بتلائیں کہ بچوں میں دل پہلے گا۔بچے ملاقات سے خوش ہوں گے۔آب و ہوا تبدیل ہو کر صحت درست ہوگی۔لیکن بھائی جی پر کسی بات کا اثر نہ ہوتا۔البتہ آپ ہمیشہ اس بات سے متاثر ہو کر تشریف لے جاتے کہ حضرت صاحب نے اجازت دی ہے۔اس لئے آپ اس امر کا احترام فرماتے۔قریباً نصف سال سے جیسے کہ رٹ لگائی جاتی ہے۔آپ بار بار اور ہر ایک کو یہ فرماتے کہ دعا کرو میرا انجام بخیر ہو۔الحمد للہ کہ نہ صرف انجام نہایت قابل رشک طور پر بخیر ہوا۔بلکہ آپ کی دیرینہ خواہش کہ قادیان کے بہشتی مقبرہ میں دفن ہوں ایک کرامت کے رنگ میں پوری ہوئی۔اگر آپ قادیان میں ہی فوت ہوتے تو اس کا کچھ اور رنگ ہوتا۔اب تو یوں نظر آتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ دیکھو بھائی جی کی سچی تڑپ اور شدید خواہش کس قدر تھی کہ قادر و قیوم اور مسبب الاسباب خدا نے ان کی سچی تڑپ کی قدر کی اور اس کے پورا کرنے کے تمام سامان کر دیئے دونوں طرف کی حکومتوں کے حکام نے بھی میرے اشارہ پر ہر طرح کی امداد کی۔ورنہ کتنے درویش جو ہندوستانی شہری تھے۔پاکستان میں فوت ہوئے لیکن کسی