اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 15 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 15

۱۵ خیالات کے متعلق مسلمان لڑکوں کے خاص حلقہ میں مدت سے بطور امانت چلا آ رہا تھا۔اس نے کہا کہ آپ کے بڑے بھائی تو مسلمان ہیں اور مسلمانوں سے محبت و ہمدردی رکھتے ہیں مگر آپ مسلمانوں سے لڑائی کرتے ہیں۔ان الفاظ نے بھائی پر بجلی کا اثر کیا اور اس کے جسم پر لرزہ آ گیا۔اور اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔بھائی حیران و ششدر رہ کر آخر جوش غیظ سے روتے گھر پہنچا اور والدہ کو بتایا کہ فلاں لڑکے نے کہا ہے کہ تمہارا بڑا بھائی مسلمان ہو گیا ہے۔“ والدہ سنجیدہ اور عقلمند خاتون تھیں۔انہوں نے بات کو ٹال دیا اور عزیز کے خیال کو کسی دوسری طرف لگا کر وقت گزار دیا۔بچوں کی ناراضگی اور جوش وقتی ہوتا ہے، آخر وہ بات ان کے دل سے تو نکل گئی۔مگر والدہ نے بغیر اس کے کہ آپ کو اس بارہ میں ایک لفظ بھی کہا ہو نہایت محتاط لب ولہجہ سے والد کو اطلاع کر دی جوان دنوں پکے ماڑی کے نہری بنگلہ پر پٹواری تھے۔لائل پور بڑی نہر سے جانب غرب اور یہ بنگلہ جانب شرق واقع تھا۔اور لائل پور کا شہر اس زمانہ میں ابھی آباد نہ تھا۔بلکہ یہ جنگل اور بیابان تھی۔آپ کا امتحان مدل قریب تھا جو کہ اس زمانہ میں لاہور جا کر دینا پڑتا تھا۔اس وجہ سے والد صاحب نے وہ دن خاموشی سے گزار دیئے مگر نتیجہ نکلنے کے معا بعد غالبا فروری یا مارچ ۱۸۹۵ء میں (ان دنوں میں رمضان کا مبارک مہینہ تھا اچانک دو تین گھوڑیاں اور ایک اونٹ لے کر سارے کنبہ کو چونیاں سے لے جانے کی غرض سے آپہنچے۔اب بھی والد صاحب نے آپ کو اس امر معلوم کے متعلق کچھ نہ کہا سنا۔بلکہ اپنی تنہائی اور تکلیف کی وجہ بتا کر سب کو تیاری کا حکم دیا۔والدہ صاحبہ کو چونکہ یقین تھا کہ ہم لوگ اب چونیاں میں نہ رہ سکیں گے لہذا انہیں نے اندر ہی اندر رخت سفر سمیٹ سنبھال کر نیم تیاری کر رکھی تھی۔اس وجہ سے بالکل ہی اچانک اور غیر معمولی جلدی میں چونیاں سے روانگی ہو گئی۔آپ اور آپ کے دوست ایک دن رات بعد ہونے والی جدائی کے احساس سے بے قرار تھے مگر کچھ پیش نہ جاتی تھی۔امتحان مڈل میں آپ فیل تھے آپ نے کوشش کی کہ نئے سال کی جماعت بندی کی تعلیم کے حرج کے خیال کی مدد لیں مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی اور والد نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ لاہور کے ڈی اے۔وی سکول میں بھیجیں گے۔ان الفاظ نے بھائی جی پرا در بھی رنج والم اور یاس وقلق کا پہاڑ گرا دیا۔دوستوں کے مشورے سے یہ قرار پایا کہ وہ آپ کے لئے رمضان میں دعائیں کریں گے اور خط و کتابت بحروف انگریزی ( کیونکہ والد صاحب انگریزی نہ جانتے تھے ) جاری رکھ کر تعلقات قائم رکھیں گے اسی رمضان میں سحری کے وقت سارے دوست شہر کے مختلف حصوں سے آپ کو الوداع کہنے کو پہنچے۔اور رات کے