اصحاب احمد (جلد 9) — Page 16
۱۶ اندھیرے میں قریباً ایک میل دور تک آپ کے ساتھ آخری باتیں کرتے چلے گئے۔طویل سفر کے بعد قافلہ پکے ماڑی یا پکی ماڑی نام بنگلہ نہر پر پہنچا۔والد صاحب کا غضب و عتاب اور غمگسار ایک کتاب آپ گھر کے اندر ہی رہتے۔آپ کو انجیل مقدس مل گئی جسے آپ نے کئی بار ختم کیا۔لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ باوجود اداسی، تنہائی اور انہاک کے اس کتاب کا آپ کے خیالات پر کچھ اثر نہ پڑا۔ایک روز ایک انگریزی الفاظ کا خط والد صاحب نے لا کر دیا۔آپ نے جنگل میں بار بار پڑھا اور اس کا جواب دیا۔یہ سید بشیر حیدر صاحب کی طرف سے تھا اور اس میں آپ کو اسلامی خیالات پر پختہ رہنے کی تلقین کی ہوئی تھی۔عجیب بات ہے جب آپ چونیاں میں تھے تو ان احباب نے شاید ہی کبھی کوئی تبلیغ بھائی جی سے کی ہوگی لیکن اب جدائی سے ان کے قلوب میں جوش تبلیغ پیدا ہو گیا اور ہر خط اسی رنگ میں ہوتا۔چنانچہ قاضی فضل الحق صاحب، سید امداد علی شاہ صاحب، سید جعفر علی شاہ صاحب پیر جہانیاں والے اور سید زین العابدین شاہ صاحب کی طرف سے بھی (جو بھائی جی کے بیان کے مطابق یہ اعلیٰ اور صاحب ثروت خاندانوں کے افراد تھے قادیان آنے پر میرا ان سے تعلق قائم نہیں رہا۔) خطوط آتے۔سلسلہ خط و کتابت اتنا بڑھا کہ والد نے آپ کے ذریعہ یا براہ راست ان احباب کو اس سے روک دیا جس سے بھائی جی کی بے قراری کا زمانہ پھر شروع ہو گیا۔اور آپ اکثر دن بھر جنگل میں دیوانہ وار پکارتے پھرتے اور صرف رات کو گھر آتے۔والد کی طرف سے علاج آپ جنگل میں پر در دوسوز اشعار مثلاً وو دلا غافل نہ ہو یکدم کہ دنیا چھوڑ جانا ہے 66 والی نظم و غیرہ پڑھتے یا دعائیں کرتے۔ایسی حالت میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ گذرا کہ والد کو کسی نے اس سے باخبر کیا۔انہوں نے یہ خیال کر کے کہ بیکاری اور تنہائی اس کا موجب ہے آپ کو ایک رشتہ دار کے پاس جو اوور سیر تھے بھجوا دیا تا آپ نقشہ نویسی وغیرہ سیکھیں۔یہ صاحب جس علاقہ کی پیمائش کر رہے تھے وہاں آبادی کا نام و نشان تک نہ تھا۔اس طرح آپ جدھر چاہتے نکل جاتے اور بلا روک ٹوک سارا سارا دن اللہ تعالیٰ کے حضور رونے اور گڑ گڑانے میں گزار دیتے۔لیکن یہ نعمت صرف تین چار ہفتہ حاصل رہی۔