اصحاب احمد (جلد 9) — Page 14
۱۴ حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی کے رشتہ دار تھے۔آپ کے ایک صاحبزادے سید بشیر حیدر صاحب، بھائی جی کے کلاس فیلو بنے جن سے آپ کو خاص طور سے محبت تھی۔اور وہ بھی رحمت و برکت کا موجب ہو گئے۔اور ان کے آنے سے آپ کی زندگی کا بالکل ایک نیا دور شروع ہو گیا۔سید بشیر حیدر صاحب کے بڑے بھائی سید نذیر حیدر صاحب بھی بھائی جی سے محبت اور مروت کا معاملہ فرماتے اور وہ ہر لحاظ سے تربیت کا خیال رکھتے۔اور موقعہ محل پر نصیحت و خیر اندیشی کا کوئی دقیقہ نہ اٹھار کھتے۔عجیب اتفاق کی بات ہے کہ اس زمانہ میں بھی آپ کے دوست آپ کو ” بھائی جی“ کے نام سے پکارتے اور عزت و محبت کی نظر سے دیکھتے تھے اور آپ عموماً اپنے دوستوں کو نیکی کی ترغیب دلاتے تھے حتی کہ اس کی خاطر بعض دفعہ آپ روزے بھی رکھتے۔جس سے آپ کے دوست متاثر ہوئے اور روزے رکھنے لگے۔گویا یہ سب ایک دوسرے کے خیر خواہ تھے۔بدیوں سے روکتے اور نیکیوں کی تحریک کرتے اور اشرار اور بدمعاشوں سے بدی مٹانے کی خاطر لڑتے۔غالبا ۱۸۹۴ء کے آخر کی بات ہے کہ آپ کے چھوٹے بھائی بہاری لال کی ایک مسلمان لڑکے سے لڑائی ہوگئی۔مغلوب ہونے پر مسلمان لڑکے نے اپنے بچاؤ کے لئے اس راز کو قربان کر دیا۔جو آپ کے بقیہ حاشیہ: - ۱۹۰۴ء میں بمقام سمبڑیال ( ضلع سیالکوٹ) ہسپتال میں تعینات تھے اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سال سیالکوٹ تشریف لائے تو واپسی پر ڈاکٹر صاحب نے بمقام سمبڑیال ہی ریل گاڑی میں بیعت کی تھی ڈاکٹر صاحب کے فرزند سید نذیر حیدر صاحب نے جو بعمر چوراسی سال بقید حیات ہیں ۱۹۰۳ء میں جہلم جا کر بیعت کی تھی جب بہ مقدمہ کرم دین حضور وہاں تشریف لے گئے تھے۔ان کے دو بیٹے سید فیاض حیدر صاحب سید سجاد حید ر صاحب احمدی ہیں۔سید بشیر حیدر صاحب ایکسٹرا اسٹنٹ کمشنر ملازمت سے سبکدوش ہو کر لاہور میں وفات پاچکے ہیں۔وہ اور بھائی عبدالرحمن صاحب ہم جماعت تھے اور دونوں کی آپس میں بہت محبت تھی۔اکثر اکٹھے رہتے تھے۔سید نذیر حیدر صاحب کی بیوی سیّدہ نزیرہ بیگم صاحبه مدفونه بہشتی مقبره قادیان (دختر حضرت میر حامد شاہ صاحب) سے بھائی جی کچھ کچھ قرآن مجید بھی پڑھنے لگ گئے تھے اور بعض اوقات نماز بھی پڑھا کرتے تھے۔ڈاکٹر صاحب چونیاں سے تبدیل ہو گئے تو سید بشیر حیدر صاحب سیالکوٹ آگئے جہاں کچھ عرصہ بعد بھائی جی بھی آگئے اور وہاں سے قادیان پہنچ گئے۔سید بشیر حید ر صاحب اور ان کے ہم جماعت مولوی صدرالدین صاحب (امیر جماعت غیر مبائعین ) دونوں نے ۹۹ - ۱۸۹۸ء میں اکٹھی بیعت کی تھی۔سید صاحب نے ۱۹۴۲ء میں وفات پائی۔