اصحاب احمد (جلد 9) — Page 196
١٩٦ صفات کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں آنے لگیں۔حکومت کی خاموشی اور بے تو جہی یہ رنگ لائی کہ ان لوگوں کے حوصلے بڑھ گئے۔اور حضور پر نور کو نعوذ باللہ قربانی کا بکرا وغیرہ ناموں سے یاد کر کے دہشت انگیزی اور درندگی کے ارادوں کا مظاہرہ کرنے لگے۔حضور اقدس پر تو ان دھمکیوں اور گیدڑ بھبکیوں کا کوئی اثر ہی نہ تھا۔خدا کی حفاظت اور رفاقت کے وعدوں کے پورا ہونے کے دن سمجھ کر حضور نہ صرف خود مطمئن۔خوش اور ہشاش بشاش رہتے۔بلکہ صحابہ، خدام اور غلاموں کو بھی تسلیاں دیا کرتے۔عید قربان آئی۔جو حضور نے خدام سمیت تکیہ حسیناں کی بڑ کے نیچے ادا کی۔قربانیاں دیں اور مہمانوں کے واسطے عید سعید کی تقریب کے مناسب حال مختلف کھانے پکائے۔نہایت محبت سے دوستوں کو کھلائے اور اس طرح ہمارے یہ دن خدا کی حمد ، عبادت اور دعاؤں میں نہایت خوشی اور اطمینان سے گذرے۔دشمنوں کے منصوبوں اور سازشوں کو خدا نے ناکام کیا۔يَعْصِمُكَ اللهُ وَلَوْلَمْ يَعْصِمُكَ النَّاس کے خدائی وعدے نہایت شان وشوکت اور جلال کے ساتھ پورے ہوئے۔اللہ اکبر۔اللہ اکبر لا اله الا الله - الله اکبر۔اللہ اکبر وللہ الحمد۔پہرہ تو محض ایک ذریعہ تھا ہم غلاموں کی عزت افزائی کا۔وہ تو ایک زمینہ تھا ہمارے عروج اور علم ومعرفت میں ترقی اور محبت وعقیدت میں زیادتی کا۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ غفلت کی نیند سو ر ہنے اور خراٹے بھر کر رات گذار دینے سے ہزار درجہ بہتر اور مفید تر تھا ہماری بے خوابی و طواف۔خدا نے اپنی حکمتوں کے ماتحت ہم لوگوں کی تربیت اور روحانی اصلاح کے واسطے یہ سامان پیدا کئے تھے ورنہ اپنے بندے کی حفاظت کے لئے نہ خدا ہی اپنی کمزور مخلوق کا محتاج تھا نہ حضور۔بمفت ایں اجر نصرت ہاد ہندت اے اخی ورنہ قضائے آسمان است ایس بہر حالت شود پیدا خاموش سنسان اور اندھیری رات کی گھڑیوں میں اچانک کبھی وہ ماہ کنعان ،نور قادیان ، جان جہان، دنیا و مافیہا کی روح رواں، ہم پر طلوع فرماتا۔میاں عبدالرحیم۔میاں عبدالعزیز۔میاں غلام محمد۔میاں پرط عبدالرحمن نام لے کر محبت بھری نرم شیریں اور دلکش آواز سے نوازتا اور خود ہماری خبر گیری و دلجوئی فرماتا۔قربان اس جان جہان کے اور فدا ہو جاؤں اس پیارے نام کے جو مخدوم ہو کر الٹا غلاموں کی خدمت ، خبر گیری کرتا۔آقا ہو کر غلاموں کی فکر کرتا اور نوازتا تھا۔بارہا وہ رحمت مجسم اپنے رہائشی دالان کی غربی کھڑکیوں سے جھانکتا ، نظر شفقت و رحمت سے ہمیں نواز تا اور اپنے دست مبارک سے اپنے رومال میں