اصحاب احمد (جلد 9) — Page 195
۱۹۵ ہمارے کسی مظلوم دوست کے تخیل نے "پر کی ڈائر“ بنا کر حالات کی وجہ سے اتنا بڑھا دیا تھا جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک کام کرانا اور لینا تھا جس کے لئے وہ معاملہ ایک وجہ بن گیا۔ورنہ اس کی حقیقت ایک چغد یا الو بچہ کے حملہ سے زیادہ نہ تھی۔مصلحت الہی کہ اس زمانہ میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکانات بالکل کھلے اور غیر محفوظ ہور ہے تھے۔مغربی حصہ مکان کی پچاس پچپن فٹ پرانی کچی دیوار بیت الفکر سے ملحقہ شمالی دالان کے آخری شمالی حصہ سے لے کر خان بہادر مرز سلطان احمد صاحب مرحوم ریٹائر ڈ پٹی کمشنر کے مکانات کی حد تک پختہ کرنے کی غرض سے گرائی جا چکی تھی۔اور وہاں دیوار کی بجائے صرف کپڑے کی چادروں کا پردہ ہوا کرتا تھا۔اینٹیں چونکہ اس زمانہ میں بٹالہ کے ژادوں کے گدھوں پر آیا کرتی تھیں۔اور معمار بھی قادیان میں نام ہی کو ملا کرتے تھے۔اس وجہ سے پردہ وغیرہ کی تکمیل ایک لمبا عرصہ چاہتی تھی۔جو آہستہ آہستہ ایک خوش نصیب مستری حسن دین صاحب مرحوم سیالکوٹی کی متواتر کئی ماہ کی تگ و دو سے جا کر کہیں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ان حالات میں ظاہر ہے کہ پہرہ و حفاظت کی کتنی شدید ضرورت تھی۔جس کا اس سے پہلے قطعا کوئی انتظام نہ تھا۔اور نہ ہی اس طرف چغد کے پہلے واقعہ تک کسی کی توجہ مبذول ہوئی (کل امر مرهون باوقاته ، یه ضرورت اس تحریک سے پوری ہو گئی ) ہمارے پہرہ کا دائرہ عمل اور گردش کا محور سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکانات تھے۔توجہ اور زور ، شکستہ حصہ یعنی مکان کے غربی جانب کے کوچہ کی طرف تھا جو اس زمانہ میں بالکل ایک کھلی گلی تھی۔موجودہ کوچہ بندی اور صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے مکانات بہت بعد میں بنے ہیں۔اس گشت کا سلسلہ احمدیہ چوک چوک موجودہ شارع دار الانوار۔چوک موجودہ قصر خلافت تک وسیع ہوا کرتا۔جس میں بعض غیر احمدی اور غیر مسلم لوگوں کے مکانات بھی آجاتے۔عمارات کے لحاظ سے آجکل اس قطعہ آبادی کی شکل اس زمانہ سے بالکل مختلف ہو چکی ہے۔آریہ اور ہندوؤں کی شورش کا سلسلہ روز افزوں تھا۔عید قربان قریب آتی جارہی تھی۔قادیان اور مضافات میں بعض میلوں کا موسم تھا جن میں گنوار لوگ شریک ہو کر وہ اودھم مچایا کرتے کہ انسانیت مارے شرم کے پانی پانی ہو جاتی۔آریوں کے کارندے دیہات کے سکھوں میں پھر کر فضا کو مکدر اور مسموم کرنے میں سرگرم تھے۔چوری اور ڈاکوں کی وارداتیں ہوا کرتیں۔ان مختلف حالات پر ایک اضافہ یہ ہوا کہ اخبارات اور اشتہارات میں اشارتاً اور پرائیویٹ خطوط میں صراحتاً " سید نا حضرت اقدس کی ذات والا