اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 197 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 197

۱۹۷ لپیٹ باندھ کر شیرینی خشک پھل وغیرہ جو بھی ہوتا ہمیں عطا فرماتا۔اور دیر تک مصروف گفتگو رہ کر خوش وقت فرما یا کرتا۔بچوں والا گھر ، مہمانوں کی آماجگاہ، غریب اور بیکس اور یتامی و بیوگاں کی جائے پناہ خستہ وشکستہ اور مظلوم افسردہ دلوں کا ماویٰ و ملجا دنیا بھر میں یہی ایک بڑا گھرانہ (بيوت اذن الله ان تــرفـع ) تھا۔بچوں کے تقاضوں۔ضروریات۔مہمانوں کی خدمت اور بیوگان ویتامی اور کمزور لوگوں کی دعوت کے لئے حضور پرنور کے پاس عموماً مٹھائی اور خشک و تر پھلوں کا ذخیرہ رہا کرتا تھا جواللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ يَاتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کے ماتحت دور دراز سے تحائف بھجواتے۔خدام مختلف قسم کے پھل اور شیر بینیاں لاتے۔بادام، کشمش، اخروٹ ، خوبانی اور مغزیات اللہ تعالیٰ بھجواتا۔ہر موسم کے میوے اور پھل۔حتی کے خشک پیلو کی بوریاں حضور کی خدمت میں آیا کرتیں۔جن کو حضور بڑی فراخی دلی سے بانٹ دیا کرتے۔عطا وسنحا میں حضور ایک ابر بہار تھے۔اپنے بیگانے اور چھوٹے بڑے سبھی کو سیراب فرمایا کرتے۔دریا دلی کا یہ حال تھا کہ بعض اوقات بٹالہ اسٹیشن سے بلٹی لانے والے ہی کو اس چیز کا اکثر حصہ عطا فر ما دیا کرتے۔مہمان اور غلام ، خادم و خادمات ، سائل و فقیر سبھی کو حضور اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں شریک فرمالیا کرتے تھے۔اسی طرح ہم لوگ بھی مدتوں حضور کی تو جہات کریمانہ کے مورد بنے رہتے۔ابتدا میرے محترم بزرگ و محسن حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب، بھائی عبدالعزیز صاحب اور میرے ہم نوالہ و پیالہ عزیز مکرم حافظ چوہدری غلام محمد صاحب بی۔اے بعض اور دوست وراقم الحروف اس خدمت پہرہ کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے رہے۔اپنا سکول کھل جانے پر بعض مخلص خاندانوں کے بچے جو طلب علم کی غرض سے والدین نے قادیان بھجوائے ہمارے ساتھ ان خدمات میں محبت واخلاص سے شریک ہوا کرتے تھے۔مثلاً مکرم معظم مرزا افضل بیگ صاحب مرحوم آف قصور کے صاحبزادے عزیز مکرم مرزا محمد افضل بیگ صاحب، مرزا محمد جمیل بیگ صاحب محترم چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے موجودہ ناظر اعلیٰ۔مرزا سلطان احمد صاحب عزیزان راجہ محمد اسمعیل راجہ محمد اسحاق صاحبان ، شیخ احمد دین صاحب ڈنگوی، منشی قمر علی صاحب وغیرہ وغیرہ۔کئی شریف سعید اور صالح نوجوان محبت بھرے دل کے ساتھ بصد شوق ان خدمات کو بجالایا کرتے تھے۔پہرہ کی راتوں میں ایک چیز جو میں نے دیکھی اس کا بیان بھی میرے ذمہ ہے۔وہ یہ کہ دوران پہرہ