اصحاب احمد (جلد 9) — Page 167
۱۶۷ حضرت اُم المؤمنین کے بارے میں ا۔ایک اہم روایت محترم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے اپنی تصنیف ”سیرۃ حضرت ام المومنین سیدہ نصرت جہاں“ (حصہ اول۔صفحہ ۲۳۱ ) میں حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب اور حضرت ام المومنین کے بارے میں ذیل کی عجیب روایت محفوظ کی ہے: حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے مجھے حضرت میر ( ناصر نواب ) صاحب کی سیرۃ کا ایک عجیب واقعہ سنایا کہ ایک زمانہ میں میں دوکان کیا کرتا تھا۔جس میں ناشتہ وغیرہ کے کیک، پیسٹری ، سوڈا برف ، دودھ وغیرہ ہوا کرتا تھا۔کبھی کبھی حضرت میر صاحب میری دوکان میں تشریف لایا کرتے اور جس چیز کی خواہش کرتے وہ پیش کر دی جاتی۔بھائی جی کا مذہب تو دراصل مذہب عشق تھا۔ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ سچا عشق تھا۔اس عشق کی وجہ سے خاندان مسیح موعود کے ہر فرد سے عشق تھا اور ہے۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ وہ بعض اوقات خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے چھوٹے چھوٹے نونہالوں کے ہاتھوں کو بوسہ دے دیا کرتے ہیں۔کیونکہ ان کو اس درخت کے پھول اور پھل نظر آتے ہیں جو ہمیشہ ان کی محبت کا نقطہ نظر رہا۔الغرض اس محبت کی وجہ سے ان کو حضرت میر صاحب کا بڑا ادب اور پاس تھا اور محبت تھی۔وہ خوشی سے لبریز ہو جایا کرتے تھے جب کبھی حضرت میر صاحب دوکان میں آتے۔اور اس خوشی میں ہرا چھی سے اچھی چیز اٹھا کر آگے رکھتے چلے جاتے۔حضرت میر صاحب خود کھاتے اور کبھی اپنے دوستوں کو بھی کھلاتے اور کبھی کبھی موج میں آ کر فرما دیا کرتے کہ 66 ”میاں عبد الرحمن ! ہم اپنا حق سمجھ کر کھاتے ہیں اور یہ اس لئے کہ ہمارا اور آپ کا تعلق بڑھے۔“ بھائی جی فرماتے تھے کہ اس سے یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت میر صاحب مفت کھاتے تھے۔بیشک وہ اس وقت عام خریداروں کی طرح قیمت ادا نہ کرتے تھے۔مگر جب تک وہ دگنی تگنی خدمت دوسرے