اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 166 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 166

۱۶۶ پر پادری مارٹن کلارک صاحب تھے اور بائیں والی کرسی حضرت مسیح موعود کو پیش کی گئی۔سب سے اوّل عبدالحمید کی گواہی ہوئی۔پھر مولوی محمد حسین صاحب کو بلایا گیا۔مولوی صاحب جب اندر گئے تو حضرت اقدس کو کرسی پر تشریف رکھے ہوئے دیکھ کر پھینک گئے اور صاحب مجسٹریٹ سے کرسی کی درخواست کی۔پہلی دفعہ صاحب بہادر نے کوئی جواب نہ دیا تو مولوی صاحب نے پھر اصرار کیا۔جس پر سخت ذلت نصیب ہوئی۔اور جواب ملا کہ بک بک مت کر سیدھا کھڑا ہو جا۔“ اس کے بعد مولوی صاحب نے جو گواہی دینی تھی دی اور باہر نکلے۔باہر کمرہ عدالت کے شمالی برآمدہ کی غربی ڈاٹ کے نیچے ایک مسلمان بھائی محمد بخش صاحب کی چادر بچھی ہوئی تھی۔مولوی صاحب جھٹ اس پر بیٹھ گئے۔محمد بخش صاحب نے جب دیکھا تو چادر کھینچ لی۔اور کہا ” جا مولوی میری چادر کیوں پلید کرتا ہے تو تو مسلمان کے خلاف جھوٹی گواہی پادریوں کے حق میں دے کر آیا ہے۔“ جب یہاں بھی ذلت نصیب ہوئی تو پولیس کے کیمپوں کے قریب کسی اردلی کی کرسی رکھی تھی۔مولوی صاحب اپنی خفت مٹانے کے لئے اس پر براجمان ہوئے۔چنانچہ جب اردلی نے دیکھا کہ مولوی صاحب افسر سے کرسی کی وجہ سے جھاڑ کھا کر اس کی کرسی پر بیٹھ گئے ہیں تو اس نے بھی اٹھا دیا۔اور مولوی صاحب نے حضور کے الہام إِنِّي مُهِينٌ مَّنْ اَرَادَ إِهَانَتَكَ “ ۳۵ کے متعد د نظارے ایک قلیل مدت میں کئے۔حضرت اقدس اس روز کمرہ عدالت کے اندر قریباً ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھے رہے۔حضور اقدس کی طرف سے وکیل مولوی فضل الدین صاحب لاہور والے تھے۔پھر مقدمہ دوسرے روز پر ملتوی ہو گیا۔اور پولیس کے ذریعہ سے عبدالحمید گواہ کو صحیح گواہی دینے کو کہا گیا۔چنانچہ عبدالحمید نے دوسرے روز اپنی گواہی دی۔اور حضرت اقدس کی معصومیت اور اپنے اور پادری مارٹن کے جھوٹا ہونے پر مہر ثبت کر دی۔یہ واقعہ اگست ۱۸۹۷ء کا ہے دوسرے روز کی تاریخ پر حضرت اقدس کی بریت کی اطلاع دی گئی۔بوقت طبع اول جلد ہذا اخویم چودھری عبدالقدیر صاحب درویش نے خاکسار مؤلف کو بتایا تھا کہ یہ مضمون بدر میں شائع کرنے سے پہلے میں نے دو بار حضرت بھائی جی کوسنا کر تصحیح کروائی تھی۔