اصحاب احمد (جلد 9) — Page 168
۱۶۸ رنگ میں نہیں کر لیتے تھے وہ مطمئن نہ ہوتے تھے۔بھائی جی کے دل میں ایک سوال ہمیشہ گد گدی لیا کرتا تھا۔وہ موقعہ کی تلاش میں تھے۔ایک دن دکان میں تنہا تھے۔حضرت میر صاحب تشریف لے آئے۔ان کی طبیعت اس وقت بہت خوش تھی۔بھائی جی نے جو موقعہ کی تلاش میں تھے، اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر سوال کر دیا۔حضرت! یہ مقام جو آپ کو حاصل ہوا اس میں کیا راز ہے؟ وہ کون سی بات تھی جو آپ کو اس جگہ پر لے آئی۔؟ حضرت میر صاحب کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔رقت ان کے گلے میں گلو گیر ہوگئی۔مگر اس بھرائی آواز میں فرمایا : ”میرے ہاں جب یہ بلند اقبال لڑکی پیدا ہوئی۔اس وقت میرا دل مرغ مذبوح کی طرح تڑپا اور میں پانی کی طرح بہہ کر آستانہ الہی پر گر گیا۔میں نے اس وقت بہت سوز اور درد سے دعائیں کیں کہ اے خدا! تو ہی اس کے لئے سب کام بنا ئیو۔معلوم نہیں اس وقت کیسا قبولیت کا وقت تھا کہ اللہ تعالیٰ اس بیٹی کے صدقے مجھے یہاں لے آیا۔“ سیہ روح ہے اس جواب کی۔ممکن ہے الفاظ میں مرور ایام سے کچھ فرق پڑ گیا ہو۔بھائی جی جب مجھے یہ واقعہ سنا رہے تھے ان کے چہرے کی ایسی حالت تھی گویا وہ میر صاحب کو سامنے بیٹھے دیکھ رہے ہیں۔اور ان کی رقت قلب ان کے قلب پر اثر کر رہی تھی۔اور خود بھائی جی کی بھی اس وقت آواز بھرا آئی اور رقت سے آنکھیں لبریز تھیں۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اُم المؤمنین کی پیدائش کا واقعہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔اس وقت کوئی خاص گھڑی تھی۔دعا کی قبولیت کا خاص وقت تھا۔کیونکہ ایک بڑی پاکیزہ روح آسمان سے لائی جارہی تھی۔ملائکہ زمین پر اترے ہوئے تھے جو زمین کو اپنی برکتوں سے مالا مال کر رہے تھے۔معلوم ہوتا ہے حضرت میر صاحب قبلہ حضرت اُم المؤمنین کے متعلق متواتر دعاؤں میں لگے رہے۔کیونکہ حضرت اُم المؤمنین کی شادی سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہی لکھا کہ و, 66 دعا کرو کہ خدا تعالیٰ مجھے نیک اور صالح داماد عطا کرے۔“ دعاؤں کی یہ کثرت اور میر صاحب جیسے باخدا انسان کی دن رات کی گریہ وزاری جہاں حضرت میر صاحب کی ذاتی سیرت پر ایک بین اثر ڈالتی ہے۔وہاں حضرت ام المومنین کے مقام کا بھی پتہ دے رہی ہے۔