اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 50 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 50

نہیں تو پھر کوئی مذہب سچا نہیں۔محض چند اخلاقی اصول سکھلا دینا کوئی بڑی بات نہیں۔مذہب کا کام خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہے۔اور مذہب کا فرض ہے کہ وہ متلاشی کو ایسا راستہ دکھلائے جو اُسے خدا تک پہنچائے۔چنانچہ آپ نے اس تحقیقات کو اس رنگ میں شروع کر دیا کہ چونکہ اسلام نماز پر بہت زور دیتا ہے تو کیا نماز واقعی کوئی حقیقت رکھتی ہے۔آپ ہر مولوی سے صرف یہی ایک سوال کرتے تھے کہ کیا انہیں نماز میں کوئی لذت حاصل ہوتی ہے اور ان کی توجہ خدا کی طرف مبذول رہتی ہے۔لیکن ہر ایک سے تقریبا نفی میں جواب ملتا تھا۔اکثر کا جواب یہ ہوتا کہ نماز شروع کرتے اور ختم کرتے وقت اگر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ ہو تو نماز قبول ہو جاتی ہے لیکن اس کے قبول ہونے کا وہ کوئی ثبوت نہ دے سکتے تھے۔اسی حالت میں چند ماہ گذر گئے۔چنانچہ آپ کی تبدیلی شاہ پور ہوگئی وہاں مڈل سکول تھا۔جو شاہ پور کچہری میں گویا شہر شاہ پور سے دو تین میل کے فاصلہ پر تھا۔اس سکول کے مدرس زیادہ تر ہندو تھے اور مسلمان مدرس صرف تین چار تھے۔جو باہر کے دیہات میں رہتے تھے اس لئے آپ کو یہاں بالکل تنہا رہنا پڑا۔سکول کے وقت کے بعد آپ کو بالکل تنہائی حاصل تھی۔آپ کو اس میں یہ خیال پیدا ہوا کہ بجائے مولویوں سے پوچھنے کے براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہی کیوں نہ دریافت کیا جائے۔چنانچہ ہر نماز کے بعد یہ دعا شروع کی کہ :- ”اے میرے مولیٰ کریم میں تیرا عاجز بندہ تیرا رستہ دریافت کرنا چاہتا ہوں۔تو خود بتادے کہ میں تجھے کس طرح پاسکتا ہوں اور اگر مجھے تجھ تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہ ملا تو میں مذہب بالکل چھوڑ دوں گا اور قیامت کے روز حضور سے عرض کروں گا کہ باوجود کوشش کرنے کے مجھے حضور کا راستہ نہیں ملا۔چند روز دعا کرنے کے بعد آپ کی تبدیلی بمقام ڈسکہ ہوگئی۔جہاں حضرت مولوی جان محمد صاحب سے آپ کے مراسم ہو گئے۔حضرت مولوی صاحب آپ کے چچا چوہدری محمد خان صاحب کے دوست تھے اور اس وقت احمدی ہو چکے تھے۔ایک دن سیر کے دوران میں آپ نے مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ میری توجہ نماز میں نہیں رہتی معلوم ہوتا ہے کہ مجھے نماز