اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 51 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 51

۵۱ پڑھنی نہیں آتی۔آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیں۔چنانچہ ان کے سکھلانے پر آپ کی توجہ نماز میں قائم رہنے لگی۔حضرت مولوی صاحب نے یہ بتلایا کہ اپنی ضروریات کے متعلق نماز میں اپنی زبان میں بہت دعائیں کرنی چاہئیں اور اگر توجہ کسی کام کی طرف چلی جائے تو پھر اسی کے متعلق دعا کر لینی چاہئے۔اس طرح سے نماز میں توجہ قائم رہ سکتی ہے۔آپ نے مولوی صاحب کے بتلائے ہوئے طریق پر نماز پڑھنی شروع کی۔گو اس طرح زیادہ وقت صرف ہوتا تھا مگر لطف خوب آتا تھا۔اس بارہ میں کہ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے۔اسے آپ نے اس طرح حل کیا کہ احمدیوں سے غیر احمدیوں کے رنگ میں اور غیر احمدیوں سے ایک احمدی کے طور پر بحث کرتے۔چنانچہ آپ کے دل نے بہت جلد فیصلہ کر لیا کہ احمدی حق پر ہیں اور اسلام کی خدمت اسی میں ہے کہ وفات حضرت عیسی " پر خوب زور دیا جائے۔اور مسلمانوں کو دوبارہ مسلمان بنانے کی کوشش کی جائے۔سو جلسہ سالانہ دسمبر ۱۹۰۵ء کے موقع پر آپ حضرت مولوی جان محمد صاحب اور حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب کے ہمراہ قادیان آئے۔قادیان میں حضرت مولوی جان محمد صاحب کے کلاس فیلو محکم دین نام جو امرتسر میں وکالت کرتے تھے۔وہ آپ کو ہر روز بیعت کرنے کو کہتے بیعت کا واقعہ آپ کے الفاظ میں یوں ہے کہ:- ایک دن جب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا جنازہ (قبرستان) روڑی سے بہشتی مقبرہ میں لے جانے کے لئے کھدوا ر ہے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی وہاں کچھ دوستوں کے حلقہ میں کھڑے تھے۔محکم دین صاحب نے مجھے علیحدگی میں لیجا کر اور حضور کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ آپ کو اپنی وفات کے الہام ہورہے ہیں اور تم نے ضروری احمدی ہو جانا ہے۔اس لئے بہتر ہے کہ تم فوراً بیعت کر لو ورنہ بعد میں پچھتاؤ گے۔اس لئے میرا خیال فوراً بیعت کر لینے کا ہو گیا۔اس