اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 49 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 49

۴۹ پھر قرآن شریف پڑھنے پر اصرار کیا۔وہ مجھے حضرت مولوی غلام حسن صاحب جو سنیاروں کے محلہ میں رہتے تھے، کے پاس لے گئے اور قرآن شریف پڑھانے کے لئے اُن کے سپر د کر دیا۔چنانچہ چند ماہ پڑھتا رہا مگر آیات کا ربط مجھے سمجھ نہ آیا۔ان سے بھی اس بارہ میں دریافت کیا۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی باغ میں درختوں کی ترتیب ہوتی ہے مگر قدرتی باغ یعنی جنگلوں میں کوئی ترتیب نہیں ہوتی۔یہی حال مصنوعی کتب اور قدرتی کتاب یعنی قرآن شریف کا ہے۔الہی کتاب میں ہمیں انسانی کتابوں کی ترتیب نہیں مل سکتی۔اس جواب سے میری تسلی نہ ہوئی چنانچہ میں نے اُن سے پڑھنا چھوڑ دیا۔چونکہ میں طالب علم تھا اور مذہبی مباحثوں میں میرا بہت حرج ہوتا تھا۔اس لئے میں نے اس امر کو طالب علمی کے بعد کے زمانہ پر ملتوی کر دیا۔۱۹۰۳ء تک مجھے مذہب میں کوئی دلچپسی باقی نہ رہی مگر پھر بھی میں نماز با قاعدہ پڑھتا رہا کیونکہ اگر میری کوئی نماز چھوٹ جاتی تھی تو جسمانی تکلیف یا مالی رنگ میں مجھے سزا ملتی تھی۔اس لئے میں نماز پڑھنے میں بہت با قاعدہ تھا۔۱۹۰۳ء میں جب میں ٹرینگ کالج میں پڑھتا تھا تو مجھے یہ خیال آیا کہ میں انگلستان چلا جاؤں اور وہاں اسلامی مبلغ کے طور پر زندگی بسر کروں۔چنانچہ اس کا ذکر میں نے حضرت مولوی غلام حسین صاحب جھنگی ہی سے کیا۔وہ بھی ان دنوں وہاں ٹریننگ کالج میں پڑھتے تھے۔انہوں نے فرمایا کہ اگر تمہارا یہ خیال ہے تو حضرت مرزا صاحب کی طرف توجہ کرو۔اس وقت ان کی یہ بات مجھے پسند نہ آئی۔" ٹرینگ کالج سے کامیاب ہو کر ۱۹۰۴ء میں آپ خوشاب مڈل سکول میں ملازم ہوئے تو پھر آپ نے مذہب کی ملتوی کردہ تحقیق کو شروع کر دیا۔آپ کے دل میں خیال آیا کہ اگر مذہب میں کوئی صداقت ہے تو صرف اسلام میں ہی ہو سکتی ہے اور اگر اسلام میں کوئی صداقت المراد حضرت مولوی غلام حسین صاحب مرحوم مدفون بہشتی مقبره ربوه ( تاریخ وفات ۲۴ جنوری ۱۹۵۰ء آپ صحابی تھے اور ملازمت میں ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف سکولز سے پنشن حاصل کر کے صدر انجمن احمد یہ میں بطور ایک اعلیٰ کارکن کام کرتے رہے اور ڈاکٹر عبدالسلام صاحب پروفیسر لنڈن کے تایا اور خسر تھے۔(مؤلف)