اصحاب احمد (جلد 8) — Page 48
۴۸ میں آکر لڑکوں کے پاس بیٹھتے تھے۔انہوں نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بیان کیا کہ میں اور مرزا صاحب ایک دفعہ اکٹھے مختاری کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔میں جب کبھی آپ کے پاس جاتا تھا۔وہ قرآن یا حدیث پڑھ رہے ہوتے تھے۔میں نے عرض کی کہ آپ نے مختاری کا امتحان دینا ہے یا قرآن و حدیث کا۔آپ نے فرمایا کہ اگر مختاری میں فیل ہو گئے تو کوئی بڑی بات نہیں مگر اس امتحان میں اگر فیل ہو گئے تو بہت بُری بات ہے۔وکیل صاحب نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ امتحان دینے کے بعد آپ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ کے سر پر سرخ پگڑی ہے اور میرے سر پر زرد رنگ کی پگڑی ہے۔یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ یعنی وکیل صاحب پاس ہو جائیں گے اور میں یعنی حضرت مسیح موعود فیل ہو جاؤں گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔“ غالباً میں مڈل میں تھا۔میں نے حضور کا ایک اشتہار پڑھا تھا جس میں آپ نے لکھا تھا کہ حضور نے خواب میں دیکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے مختلف اضلاع میں بڑی بُری شکل کے درخت لگا رہے ہیں۔حضور نے دریافت فرمایا کہ یہ کیسے درخت ہیں۔انہوں نے کہا کہ طاعون کے درخت ہیں۔“ بعد میں ایک دو سال کے اندر ہی پنجاب کے بہت سے ضلعوں میں سخت طاعون پھیلی۔۱۸۹۹ ء میں میں اسکاچ مشن سکول سیالکوٹ میں داخل ہوا۔اس سال مذہب کی طرف میری توجہ بہت زیادہ ہوگئی۔مجھے یہ خیال پیدا ہو گیا کہ نماز پڑھنے کا مجھے کیا فائدہ ہے کیونکہ میری نماز میں کبھی کوئی توجہ نہ ہوتی تھی اور میں اسے بہت جلد جلد ادا کرتا تھا۔سوچا کہ مجھے قرآن شریف با ترجمہ پڑھنا چاہئے۔پھر مذہب کی صحیح سمجھ آئے گی۔چنانچہ مولوی میرحسن صاحب سے جو میرے استاد تھے یہ عرض کیا کہ آپ مجھے قرآن شریف پڑھائیں لیکن انہوں نے پڑھانے سے انکار کر دیا اور عذر کیا کہ وہ قرآن شریف نہیں جانتے۔بہت اصرار کرنے پر انہوں نے مجھے تفسیر حسینی لا کر دی اور فرمایا کہ اس سے قرآن شریف پڑھا تھا۔تم بھی اس سے پڑھ لو۔میں نے کوشش کی مگر کچھ سمجھ میں نہ آئی خصوصا آیات کا جوڑ سمجھ نہ سکا۔میں نے یہ کتاب واپس کر کے میر صاحب موصوف ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے بھی استاد تھے۔(مؤلف)