اصحاب احمد (جلد 7) — Page 2
2 بے تمیزی کا سمندر بہہ رہا تھا۔کسی کو کوئی ممانعت نہیں۔گرنتھ یہ نہیں کہتا کہ فلاں چیز حلال یا فلاں شے حرام ہے۔صرف دوسروں کی طرف دیکھ کر بعض باتوں کو حلال اور بعض کو حرام تجویز کر لیا جاتا ہے۔مگر بعد ازاں میں آریوں کے اصول کا پابند ہو گیا۔اور اواگون ( تناسخ) کے مسئلے کا قائل۔” جب میں نے اپنی قوم کو شراب خوری اور جہالت میں سرگرداں پایا اور خدا کی (1)66 معرفت سے بے نصیب دیکھا تو میرے دل میں ایک تلاش حق کا جوش پیدا ہوا۔(1) میں پرائمری سکول میں تعلیم پاتا تھا اور ابھی میری عمر چودہ سال سے متجاوزہ نہ تھی کہ ایک کتاب بنام رسوم ہند میرے مطالعہ میں آئی۔اس میں اول حصہ میں ہندوؤں کے بزرگوں اور دیوی دیوتاؤں کا ذکر تھا اور آخری حصے میں حضرت آدم سے حضرت محمدعلی اللہ کے حالات اور مدارج عالیہ پڑھ کر میرا دل لوٹ گیا اور تمنا کی کہ کاش پر میشر مجھے بھی ان کا مرتبہ اور قرب عطا کر دیتا۔مگر معایہ خیال بھی آیا کہ اس طرح ہر ایک متنفس یہی تمنا کر سکتا ہے اور یہ خواہش کسی صورت میں پوری نہیں ہو سکتی۔بعد ازاں حضرت امام مہدی جن کا ظہور آخر زمانے میں مقدر تھا ان کے حالات پڑھ کر دل میں وہی خواہش پیدا ہوئی کہ ہے زنکار یہ فضل مجھے ہی عنایت ہو جائے ، ورنہ کم از کم اتنا تو ضرور ہو جائے کہ حضرت امام مہدی کے اصحاب میں داخل ہو جاؤں اور ثواب دارین حاصل کر سکوں۔الحمد للہ کہ یہ آخری دعا جو بحالت اضطراب کی گئی قبول ہو گئی۔“ کتاب رسوم ہند کے مطالعہ سے دفعتاً مذہب کے متعلق یہ خیال پیدا ہوا کہ ممکن ہے کہ ہم سکھوں کا موجودہ مذہب انسان کو پر میشر تک پہنچانے کے لئے کافی نہ ہو اور گرنتھ صاحب جس میں تو حید اور چند اخلاقی باتوں کا ذکر ہے ، دوسری انسانی ضروریات کے بارے میں تمام احکام دربارہ امور کردنی و نا کر دنی پر حاوی نہ ہو اور ہم مینڈک کی طرح ایک تنگ و تاریک گڑھے میں پڑے ہوں اور اپنے حقیقی مالک و خالق سے ناواقف اور نا آشنا ہی دنیا میں آویں اور ویسے ہی بے نصیب اور محروم ہو کر اس دار فانی سے چلے جاویں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کثرتِ مطالعہ سے اور نیز غور وفکر سے میں اس امر پر بخوبی واقف ہو گیا تھا کہ ہماری قوم سکھ ) کی یہ حالت ہے کہ ان لوگوں میں علم بہت کم ہے اور روحانیت بکلی معدوم ہے اور ہزار ہا جو ان سکھ انگریزی فوج میں بھرتی ہونے اور دولت اکٹھا کرنے کو دنیا میں آنے کا مقصد ا علیٰ خیال کئے ہوئے ہیں اور لاکھوں اندھوں کی طرح ہیں اور شراب خوری اور دیگر اخلاقی کمزوریوں میں زندگی بسر کر کے اندھے ہی چلے جاتے ہیں اور اس امر سے بکلی بے خبر اور نا آشنا ہیں کہ یہاں سے شروع کر کے والدین سے پہلی ملاقات“ کے عنوان کے آخر تک اقتباسات کتاب ” میں مسلمان ہو گیا۔“ (حصہ اول ص ۲۱ تا ۳۱) سے لئے گئے ہیں البتہ جو عبارت یا الفاظ خطوط وحدانی میں درج ہیں۔وہ حضرت ماسٹر صاحب کے قلمی مسودہ سے لئے گئے ہیں اور تسلسل کی خاطر ان کا اندراج کر دیا گیا ہے۔