اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 3 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 3

3 دنیا میں آنے کا اصل مدعا اور علت غائی کیا ہے اور مابعد الموت ہمیں کون سی ضروریات در پیش ہوں گی اور اپنے ہر ایک کردار اور گفتار کا کس طرح جواب دینا ہو گا۔بعد ازاں یہ خیال پیدا ہوا کہ ممکن ہے کہ عیسائی مذہب ہی حق اور راستی پر مبنی ہو یا بدھ یا اسلام یا پارسیوں کا مذہب خدا کی طرف سے ہو اور ہم یوں ہی جیسے خالی ہاتھ دنیا میں آئے ویسے ہی حق اور روحانیت کے سرمایہ سے تہی دست ہو کر اس جہاں سے چل دیں۔قصہ کوتاہ میں مذہب کے بارے میں نہایت تشویش اور گھبراہٹ میں مبتلا ہو گیا اور ایک ایک دن گزارنا دو بھر ہو گیا۔مگر چونکہ میں اپنے قدیمی مذہب میں خوب سرگرم تھا اور ہر صبح کو اٹھ کر اشنان کرنا اور ذکر الہی میں ایک حد تک مصروف رہنا میری دلی خواہش اور روحانی غذا تھی اور حتی الامکان دور دور چل کر پنڈتوں اور سادھوؤں کی صحبت سے مستفید ہونے کی کوشش کرتا تھا مگر تسلی اور طمانیت کہیں دستیاب نہیں ہوتی تھی اور تلاش حق میں دل ہر وقت بے قرار و مضطرب رہتا تھا مگر ہا ایں ہمہ اس غیر معمولی تلاش حق اور اضطرار کو ہر ایک سے چھپاتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ مجھے کوئی دیوانہ یا مخبوط الحواس سمجھے اور کہے کہ اس چھوٹی عمر میں ایسے خیالات دل پر مستولی ہیں تو آئندہ کیا ہوگا۔مگر میں اپنی جستجو اور تلاش حق میں مصروف رہا چنانچہ اوّل اوّل میں نے اپنی تحقیقات اور تلاش کا دائرہ صرف پنڈتوں اور سادھوؤں تک محدود رکھا اور اپنے جاہل بھائیوں کی طرح مسلمانوں اور ان کے مذہب کو نہایت نفرت سے دیکھتا تھا اور ان کو طنز مسلے مسلے کہہ کر پکارا کرتا تھا اور تحقیر اور حقارت آمیز کلمات کے استعمال سے دریغ نہ کرتا تھا مگر ایسا کرنا بھی کسی قدر ٹھیک اور بجا تھا کیوں کہ ہمارے گردو نواح میں عموماً اور ہمارے گاؤں میں خصوصاً ایسے مسلمان بود و باش رکھتے تھے جو خدا اور رسول اور اسلام کے پاک اصول سے بکلی ناواقف اور وحشیوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔نماز روزہ کا تو ذکر کیا کئی کئی دن تک اشنان کرنا اور ہاتھ منہ دھونا بھی انہیں نصیب نہ تھا۔علاوہ ازیں اشیاء خوردونوش اور ان کے غلیظ برتنوں کو دیکھ کر میری نفرت اور کراہت اور بھی بڑھتی جاتی تھی اور دل میں یہی سمجھے ہوئے تھا کہ بس یہی اسلام ہے جوان لوگوں کی طرز معاشرت سے ظاہر ہوتا ہے اور یہی مسلمان ہیں اور یہی ان کے مذہب کے اصول۔لیکن یہ میری بڑی بھاری غلطی تھی اور اسی غلطی میں صد ہا بلکہ ہزار ہا سکھ اور دوسرے متلاشی حق گرفتار ہیں۔“ گو میرے دل میں اسلام کے ان برے نمونوں نے کئی طرح کے شبہات ڈالے مگر عنایت ایزدی نے میری دست گیری کی اور مجھ جیسے لاکھوں غلط اندازہ کرنے والوں میں سے مجھے چن لیا اور اپنی رحمت خاص سے ایک نیک مرد مدرس کی صحبت نصیب ہوئی جو ارکان اسلام کے پابند اور ظاہری و باطنی پاکیزگی میں حصہ وافر رکھتے تھے پس ان کی صحبت اور نیک نمونے سے اتنا ہوا کہ میرے دل میں جو بُرے نمونوں کو دیکھ کر بے جا کراہت اور نفرت جا گزیں تھی وہ دور ہوگئی اور دل میں کہا کہ یہ سخت نالائق حرکت اور بدبختی کے آثار ہیں کہ اسلام اور اس کے پاک اصول اور صداقت کے اصل آثار کو بغیر دیکھنے کے خود بخود فیصلہ کر لیا جائے۔حق تو یہ ہے کہ ہر ایک مذہب کے