اصحاب احمد (جلد 7) — Page 1
1 بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب جالندھری رضی اللہ تعالی عنہ وطن اور شکل و شباہت حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب ۱۸۷۲ء کے قریب قصبہ ڈومیلی تحصیل پھگواڑہ ( ریاست کپورتھلہ ) ضلع جالندھر میں سردار دسوندھا سنگھ صاحب ولد ساون سنگھ ولد رام گولا قوم راجپوت جٹ کے ہاں ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے اس وقت آپ کا نام مہر چند یا مہر سنگھ تھا۔آپ چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے اور والدین کے لاڈلے تھے۔چہرہ قدرے لمبا ، داڑھی مشرع قد اوسط سے قدرے کم ، رنگ گندمی ،جسم گٹھا ہوا مضبوط ،لباس اور عادات سادہ سنجیدہ طبع ، ماہر تیراک تھے۔گہرے سے گہرے کو ئیں کی تہہ سے سامان نکال لیتے تھے۔جوانی میں آٹھ دس میل شوقیہ طور پر پیدل چل کر جالندھر یا پھگواڑہ ریل گاڑی دیکھنے کے لئے جاتے ، اپنی طالب علمی میں خاکسار مؤلف نے کئی بار آپ سے سنا کہ آپ روزانہ ڈنٹر پیلتے اور ورزش کرتے رہے ہیں۔میں نے انہیں بیمار ہوتے کبھی نہیں دیکھا۔تلاش حق کی تڑپ اور بالآخر حصول ہدایت ۱۸۸۴ء کے قریب آپ موضع لوٹیرہ خورد کے پرائمری سکول میں جماعت چہارم میں تعلیم پاتے تھے بچپن سے ہی سکھوں کے رسم و رواج کو آپ نا پسند کرتے اور ان پر اعتراض کرتے تھے۔مرگھٹ میں مڑھیوں پر دیئے جلائے جاتے تھے۔ناپسندیدگی کے باعث آپ ان کو اور مورتیوں کوتو ڑ دیتے تھے، عربی اور فارسی کا شوق تھا۔آپ اس وقت کے اپنے مذہبی خیالات کے متعلق لکھتے ہیں: ایک زمانہ وہ تھا کہ یہ عاجزا اپنے حقیقی مالک ورازق سے بکلی نا آشنا اور دور پڑا ہوا تھا اور نہ جانتا تھا کہ میں اس دنیا میں کیوں پیدا ہوں اور مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔کچھ عرصے تک میں سکھوں کے ہی مذہب پر عامل رہا۔اگر سچ پوچھو تو کوئی بھی مذہب نہیں تھا۔کیوں کہ ان لوگوں کی وحشیانہ زندگی اور آزادانہ طور سے حلال و حرام میں گو بعد میں آپ کی کتب وغیرہ میں سابق نام مہرسنگھ ہی درج ہے لیکن آپ نے اپنے قلمی حالات میں ہر چند یا مہر سگے دونوں نام تحریر کئے ہیں۔