اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 212 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 212

212 لوگ جو اس تحریک میں آخر تک استقلال کے ساتھ حصہ لیں ان کے ناموں کو محفوظ رکھنے کے لئے اور اس غرض کے لئے کہ آئندہ آنے والی نسلیں ان کے لئے دعائیں کرتی رہیں کوئی یاد گار قائم کروں۔۔۔۔۔میں نے اپنے دل میں کہا وہ جنھوں نے خدا تعالیٰ کے دین کے احیاء اور اس کے جھنڈے کو بلند رکھنے کے لئے اس تحریک میں حصہ لیا ہے ان کے نام آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ رکھنے کی خاطر کیوں نہ کوئی تجویز کی جائے چنانچہ اس کے لئے میں نے ایک نہایت موزوں تجویز سوچی ہے جسے اپنے وقت پر ظاہر کیا جائے گا۔غرض اس مضمون کو پڑھنے کے بعد میرے دل میں یہ خیال آیا کہ جسے خدا نے اپنا لشکر قرار دیا ہے اور جس کے ذریعہ اسلام کی فتح کا سامان دنیا میں ہونے والا ہے اس جماعت کو کون مٹا سکتا ہے۔یقینا کوئی نہیں جو مٹا سکے لیکن ہمارا بھی فرض ہے کہ ان پانچ ہزار سپاہیوں کی کوئی مستقل یادگار قائم کریں کیونکہ وہ سب لوگ جو اس جہاد کبیر میں آخر تک ثابت قدم رہیں گے ان کا حق ہے کہ اگلی نسلوں میں ان کا نام عزت سے لیا جائے اور ان کا حق ہے کہ ان کے لئے دعاؤں کا سلسلہ جاری رہے۔اور اس کے لئے جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ایک نہایت موزوں تجویز میں نے سوچ لی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ تم میں سے ہرشخص اپنے عمل سے ثابت کر دے کہ جب امتحان کا وقت آیا تو تم نے اسلام اور احمدیت کے لئے وہ قربانی کی جس قربانی کا اسلام تم سے مطالبہ کرتا تھا۔اور تم اپنے ایمان اور اپنے عمل اور اپنی قربانیوں کے لحاظ سے گذشتہ جماعتوں سے پیچھے نہیں رہے۔بلکہ ان سے آگے بڑھے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جماعت کے دوستوں کے دلوں کو کھولے تا وہ اس پانچ ہزار سپاہیوں کے لشکر میں شمولیت کا فخر حاصل کر سکیں جس کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ایک کشف کے ذریعہ خبر دے چکے۔اللهم امين امين (3) حضور نے ایک بار فرمایا و بعض نیکیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا ہمیشہ موقع ملتا رہتا ہے لیکن بعض نیکیوں کا موقع صدیوں میں ملتا ہے اور جو اس سے محروم رہ جاتے ہیں وہ ندامت کا شکار ہوتے ہیں۔تحریک جدید کا حصہ نیک نام رکھنے کی بہ فضل خدا ضمانت ہے۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ تحریک جدید کا کام ان مستقل تحریکات میں سے ہے جن میں حصہ لینے والے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے اس طرح مستحق ہوں گے جس طرح بدر کی جنگ میں شامل ہونے والے صحابہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں کے مورد ہوئے۔“