اصحاب احمد (جلد 7) — Page 211
211 منظوری ہوئی اور ساتھ ہی بشارت دی گئی کہ اگر چہ یہ قلیل ہے مگر کثیر گروہ پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے غالب آئے گا۔قاضی صاحب نے لکھا کہ میرے نزدیک چھت سے قریب اور آسمان کی طرف یعنی عالم بالا کے فیوض سے معمور خلافت ثانیہ کا وجود مسعود ہے جسے کشف میں دوسرے شخص سے تعبیر کیا گیا ہے چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے پانچویں سال کے اعلان میں فرمایا۔قاضی اکمل صاحب ( قاضی ظہور الدین اکمل ) کا ایک مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک پیشگوئی کے متعلق شائع ہوا ہے وہ دراصل ایک پرانا کشف ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے دیکھا آپ فرماتے ہیں۔کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے تب میں نے اس شخص کو جوز مین پر تھا مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے مگر وہ چُپ رہا اور اس نے کچھ بھی جواب نہ دیا تب میں نے اس دوسرے کی طرف رخ کیا جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا اور اسے میں نے مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے وہ میری اس بات کو سن کر بولا کہ ایک لاکھ نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا تب میں نے اپنے دل میں کہا اگر چہ پانچ ہزار تھوڑے آدمی ہیں پر اگر خدا تعالیٰ چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پاسکتے ہیں اس وقت میں نے یہ آیت پڑھی كَمُ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ (2) اب قاضی صاحب کے مضمون سے جو اعداد و شمار سے مرتب کیا گیا ہے مجھے وہ پرانا خیال یاد آ گیا اور میں سمجھتا ہوں کہ در حقیقت انہی لوگوں کے متعلق یہ کشف ہے اور حقیقت یہ ہے کہ کئی سال سے میرا خیال ہے کہ یہی وہ فوج ہے جس کے ملنے کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوخبر دی گئی تھی اور اسی فوج کے ذریعہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اسلام کی فتح کے لئے ایک مستقل اور پائیدار بنیاد قائم کرے اور یہ فوج اپنا ایک ایسا نشان چھوڑ جائے جس کے ذریعہ ہمیشہ دنیا میں اسلام کی تبلیغ ہوتی رہے ہے۔پھر عجیب بات ہے کہ ادھر الفضل میں یہ مضمون شائع ہوا اُدھر چند دن پہلے میں یہ سوچ رہا تھا کہ تحریک جدید میں آخر تک قربانی کرنے والوں کو آئندہ نسلوں کے لئے بطور یادگار بنانے کے لئے کوئی تجویز کروں۔جب یہ کشف میرے سامنے آیا تو اس نے میرے اس خیال کو اور زیادہ مضبوط کر دیا اور میں نے چاہا کہ وہ