اصحاب احمد (جلد 7) — Page 213
213 حضور نے ۱۹۳۶ء کی مشاورت میں فرمایا ( میں ) اس لئے بھی خلیفہ ہوں کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خلافت سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ لصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے الہام سے فرمایا تھا کہ میں خلیفہ ہوں گا پس میں خلیفہ نہیں بلکہ موعود خلیفہ ہوں۔میں مامور نہیں مگر میری آواز خدا تعالیٰ کی آواز ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اس کی خبر دی تھی گویا اس خلافت کا مقام ماموریت اور خلافت کے درمیان کا مقام ہے اور یہ موقع ایسا نہیں ہے کہ جماعت احمد یہ اسے رائیگاں جانے دے اور پھر خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو جائے۔جس طرح یہ بات درست ہے کہ نبی روز روز نہیں آتے اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ موعود خلیفے بھی روز روز نہیں آتے۔* (4) یادگار طریق حضور نے ۱۹۳۸ء کے جلسہ سالانہ پر اعلان فرمایا کہ چندہ تحریک جدید میں چندہ دینے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پانچ ہزار والی پیشگوئی کو پورا کرنے والے ہیں اس لئے ان کی یاد گار قائم رکھنے کے لئے یہ طریق اختیار کیا جائے گا کہ تحریک جدید کے چندہ سے تبلیغ کے لئے ایک مستقل انتظام کیا جائے گا اور یہ صدقہ جاریہ کے طور پر ہوگا۔اور چندہ میں حصہ لینے والوں کو دوگروہوں میں تقسیم کر کے ان کی فہرستیں بنائی جائیں گی۔اس ارشاد کے مطابق چوہدری صاحب نے یہ تجویز کی کہ جن احباب نے پانچ سال تک متواتر حصہ لیا ہے ان کی ایک فہرست اخبار الفضل میں شائع کر دی جائے۔تا دفتر کو معلوم ہو کہ پانچ ہزار ہیں اور بقایا داروں کو توجہ دلائی جائے۔۱۹۴۰ء کے الفضل میں اس فہرست کا بڑا حصہ شائع ہوا۔چوہدری صاحب چونکہ مفصل رپورٹ روزانہ پیش کرتے تھے۔اس فہرست کو ملاحظہ فرما کر ان بقایا داروں کو ان الفاظ میں حضور ایدہ اللہ نے توجہ دلوائی فرمایا۔میں پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں خصوصاً ان لوگوں کو جو نا دہند ہیں اور ان کی ☆ طرف تحریک جدید کا کئی کئی سال کا بقایا ہے۔ان کے لئے راستہ کھلا تھا کہ وہ اس میں شامل نہ ہوں ، تو وہ کیوں شامل ہوئے اور جب ان کے لئے اس بات کا راستہ کھلا ہے کہ وہ اپنا نام کٹوا لیں تو وہ اپنا نام کیوں نہیں کٹواتے۔ہمیں اس تحریک کے متعلق یہ نظر آتا ہے کہ اس میں حصہ لینے والوں کی تعداد پانچ ہزار کے ارد گرد چکر کھا رہی تھی۔گویا اس میں حصہ لینے والوں کی تعداد اتنی ہے جتنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کشف میں بیان ہوئی ہے۔۔۔پس آج میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ جن دوستوں کے ذمہ تحریک جدید کا گذشتہ سالوں میں چوہدری صاحب نے بطور وکیل المال ۶۴ صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ جانی و مالی قربانیوں کے مطالبات مرتب کر کے ۱۹۳۸ء میں شائع کیا تھا۔اس میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات ۱۹۳۴ ء تا ۱۹۳۸ء کے اقتباسات جمع کئے گئے ہیں۔