اصحاب احمد (جلد 7) — Page 10
10 حضرت مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں باریابی: پھر وہ مولوی خدا بخش صاحب مجھے مولانا محترم حکیم نورالدین صاحب عم فیضہ کے پاس لے گئے۔“ اس بارہ میں آپ قلمی مسودہ میں رقم فرماتے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد مولوی خدا بخش صاحب نے مجھے بھیرہ پہنچایا۔وہاں صحبت اچھی نہ ہونے کی وجہ سے مجھے دہلی میں ایک نومسلم مولوی محمد صاحب کے پاس متصل مسجد مولوی سید نذیر حسین صاحب شیخ الکل پہنچایا۔وہاں میں ایک دو سال گلستان بوستاں پڑھتارہا۔کتابت سیکھی۔قرآن مجید پڑھا رات کو مولوی محمد صاحب کے ہاں سوتا تھا وہاں سرسام سے شدید بیمار ہو گیا اور معالج مایوس ہو گئے تو مشہور حکیم اجمل خاں کے علاج سے مجھے شفا ہو گئی۔پھر مجھے مولوی خدا بخش صاحب را جپورہ ( پٹیالہ ) لے آئے۔ہمارے قصبے کے ایک مہنت نے جو مہا راجہ پٹیالہ کا پروہت تھا مجھے پکڑ لیا اور پوچھا کہ کیا تم مہر سنگھ ہو۔اس پر میں نے ایسا جواب دیا جس سے وہ حیران و ششدر ہو گیا۔اس رات میں دہلی کے لئے روانہ ہو گیا۔پھر مولوی صاحب مجھے جالندھر اور وہاں سے قادیان لے آئے۔حضرت اقدس کی اولین زیارت اور بیعت : آپ کا بیان ہے کہ ۱۸۹۰ ء کے قریب حضرت مولوی خدا بخش صاحب مجھے قادیان لے آئے اور مجھے پہلی بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔اس زمانے میں چند افراد ہی مسجد مبارک میں بوقت نماز آتے تھے۔فتح اسلام میں حضرت اقدس نے مسیح موعود ہونے کا دعوئی بیان کیا ہے، اور یہ دعویٰ ایک انقلابی رنگ رکھتا تھا۔کیوں کہ حضور اس سے قبل عام مسلمانوں کے رنگ میں حیات عیسی کے قائل تھے۔اب حضور پر اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر فرما دیا تھا کہ مسیح ناصری وفات پاچکے ہیں اور نازل ہونے والے مسیح نے امت محمدیہ میں ہی پیدا ہونا تھا اور وہ آپ ہی ہیں۔ماسٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ پہلی بار قادیان آنے پر حضرت حافظ حامد علی صاحب کو سرگوشی میں حضرت سید فضل شاہ صاحب سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ دیکھو اب تو حضرت صاحب عیسی بن گئے ہیں۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ اس وقت ابھی فتح اسلام زیر تصنیف تھی (جیسا کہ آگے بیان ہوگا ) اور ابھی اس کا اعلان نہیں ہوا تھا اس لئے حافظ صاحب نے گویا یہ خوشخبری شاہ صاحب کو سنائی ہوگی تا کہ وہ بھی انبساط وسرور میں شریک ہوسکیں۔(بقیہ حاشیہ) اور کامل توجہ سے چندہ کے لئے احسن تدبیر کی جاوے اور میں اسی خط میں اپنے تمام مخلصوں کی خدمت میں محض اللہ اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ ہر ایک صاحب حتی الوسع اپنے اس چندہ میں شریک ہو۔سب کے ایک ایک لقمہ دینے سے ایک کی غذا نکل آئے گی اور کسی کو تکلیف نہ ہوگی۔میں نے سنا ہے کہ فریمین کا گروہ اپنے ہم تعلقوں کے ساتھ قرضہ وغیرہ کے امور میں بہت ہمدردی کرتا ہے۔پس کیا مسلمانوں کا یہ پاک گروہ فریمین کے پر بدعت اور ملحد گروہ سے ہمدردی میں کم ہونا چاہیے؟ (3)