اصحاب احمد (جلد 7) — Page 9
9 سوال کیسے کروں۔انہوں نے کہا کہ تمہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ سوال کیا ہوتا ہے۔میں نے کہا میں نوکری کرلوں گا۔سوال نہیں کروں گا ) بعد ازاں یہ عاجز (مولوی عبد الکریم صاحب واعظ کے ساتھ ) گوجرانوالہ پہنچا اور مسجد علاؤالدین موحد میں ٹھہرا اور نماز سیکھی۔میں ریل دیکھنے اکثر ریلوے سٹیشن پر آتا تھا ) چند روز قیام کرنے کے بعد مولوی خدابخش صاحب جالندھری سے ریلوے سٹیشن پر ملاقات ہوئی میں نے ہر چندان سے اپنی سکونت اور وطن کو چھپانا چاہا لیکن انہوں نے خود ہی کہہ دیا کہ تمہاری زبان سے معلوم ہوتا ہے کہ تم جالندھر کے گردونواح کے باشندہ ہو۔آخر کار مجبوراً اپنا پورا پتہ اور تمام سرگزشت سنانی پڑی۔میں نے اختفاء حال اس لئے کیا تھا مبادا میرے والدین کسی قوم فروش غدار مسلمان کو طمع دے کر مجھے واپس بلانے کی کوشش کریں۔انہوں نے مجھے بار بار یقین دلایا کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا کہ ایک ادنی طمع سے ایک شخص جو اسلام میں داخل ہوا ہو اس کو پھر کفر کی طرف واپس کرا دے۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ مسیح کے حواری اس قدر بھی غیرت ایمان اور دنیا سے سرد مہری نہیں رکھتے تھے جتنی آج کل ایک ادنیٰ مسلمان رکھتا ہے۔کیونکہ یہودا اسکر یوطی حواری نے مسیح کو تمیں روپے لے کر گرفتار کرا دیا تھا اور پطرس نے بوجہ خوف کے ان پر لعنت کی۔حضرت عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ: ”مولوی خدا بخش صاحب جالندھری نہایت مخلص آدمی تھے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شہادت ہے، انہوں نے ۱۸۸۹ء میں ہی بیعت کی تھی اور کبھی کوئی ابتلا ان پر نہیں آیا، وہ اشاعت اسلام کے لئے بڑا جوش رکھتے تھے۔ہمارے مکرم اور مخلص بھائی سردار مہر سنگھ حال ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی اے ان کی ابتدائی تربیت اسلام مولوی صاحب ہی کے ہاتھوں ہوئی ہے۔وہ اس تلاش میں رہتے تھے کہ کسی غیر مسلم کو داخل اسلام کریں اور اس کے لئے وہ کسی قسم کی محنت تکلیف اور خرچ سے کبھی مضائقہ نہ فرماتے تھے۔اس قسم کی دینی خدمات کی وجہ سے وہ زیر بار ہوئے۔حضرت مسیح موعود نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو مار دسمبر ۱۸۹۰ء کو ایک مکتوب صرف مولوی صاحب کی اعانت کے متعلق رقم فرمایا۔جس میں تحریر فرمایا: مولوی خدا بخش حامل ہذا جو مجھ سے تعلق بیعت رکھتے ہیں۔بہت نیک سرشت اور صاف باطن اور محبت صادق ہیں۔مجھے ان کی تکالیف معلوم ہوگئی ہیں۔وہ شاید میں آدمیوں سے زیادہ کے قرضدار ہیں اور نہایت تلخی میں ان کا زمانہ گزرتا ہے۔وطن میں جانا ان کا ترک ہو گیا ہے اور میں نے دریافت کیا ہے کہ یہ سب تکالیف محض دینی ہمدردی کی وجہ سے جس میں آج تک وہ مشغول ہیں ان کو پہنچ رہی ہیں اور کوئی ان کے حال کا پرسان نہیں۔لہذا اس مخدوم کو محض اس وجہ سے کہ آپ ہمدرد خلائق ہیں اور لہبی امور میں پورا جوش رکھتے ہیں تکلیف دیتا ہوں کہ اس بے چارہ بے سروسامان کے لئے کچھ بندوبست فرمائیے۔اگر چندہ ہو تو میں بھی اس میں شامل ہونے کو تیار ہوں۔بلکہ میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ کی تحریک اور انتظام سے اور آپ کی پوری (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )