اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 8 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 8

8 امرتسر کے قریب آپ پہونچا۔ابھی شہر دو تین میل کے فاصلے پر تھا کہ رات ہو گئی اور سخت اندھیرا ہو گیا اور بوجہ تنہائی اور غیر معمولی تاریکی کے دل پر خوف اور حزن طاری ہوا ( مبادا بھیڑیے مجھے کھا جائیں ) اور دل میں خیال آیا کہ فی الحال گھر واپس جانا قرین مصلحت ہے کیوں کہ جب پہلی مرتبہ اتنی تکلیف اور عزیزوں قریبوں سے جدائی اور مفارقت برداشت ہوگئی تو پھر دوسری دفعہ زیادہ لمبا سفر اور اس کے مشکلات کا سامنا کرسکوں گا اور خوردسالی کے خطرات بھی جاتے رہیں گے۔ان ہی خیالات میں (ابھی چند قدم ہی لوٹا تھا کہ ) یکا یک میری زبان پر زور سے القا ہوا کہ کس ندیدم که گم شد از ره راست اس جملے سے میرے دل میں شرح صدر اور شبح قلب تقویت اور حوصلہ پیدا ہوگیا اور یقین ہو گیا کہ وہ خدا جس کی رضا جوئی کی خاطر میں نے یہ تکالیف اور صعوبتیں برداشت کیں اور اپنے والدین اور بھائیوں کو ایک رڈی چیز کی طرح پھینک دیا اگر وہ در حقیقت ہے اور اس جہاں کا حقیقی خالق و مالک ہے اور ہر ذرہ پر اس کا قبضہ و تصرف ہے تو مجھے ہرگز ضائع نہیں ہونے دے گا۔وہ بڑا وفادار اور زبردست طاقتوں کا مالک ہے۔پھر کیونکر ہوسکتا ہے کہ وہ اس سے بے اعتنائی کرے جس نے اس کو ہر ایک شے پر ترجیح دے کر قبول کر لیا ہے اور اس کی خاطر صدہا ہلاکتیں قبول و اختیار کر لی ہوں۔وہ ہرگز مجھے نہیں چھوڑے گا۔خواہ بظاہر مصائب اور تکالیف کی گھنگھور گھٹا چھائی ہوئی ہو۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے سڑک سے ایک طرف ہو کر تنگ و تاریک درختوں کے جھنڈ میں آبسیرا کیا اور درندوں اور دیگر حشرات الارض سے ڈرتے ڈرتے وہ رات کاٹی۔تیسرے روز یہ عاجز بمقام لاہور پہنچا۔لیکن کھانا کھانے کے بعد شہر سے دو تین میل باہر جا کر لاہور اور باغبان پورہ کے درمیان ) گیہوں کے کھیتوں میں آ سویا۔کیوں کہ شہر میں کوئی واقف نہ تھا۔غرض جس طرح یہ رات کائی اس کی کیفیت ہر ایک بطور خود ذہن میں لاسکتا ہے کہ ایک کمزور اور نا واقف اور ناتجربہ کارلڑکے کو جنگل میں کن کن تکلیفوں اور حاجتوں اور خوف وحزن کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے، اسی طرح میں نے جوں توں کر کے چند مہینے لاہور اور میانمیر کے درمیان گیہوں کے کھیتوں میں کاٹے۔محض خدا کے فضل وکرم نے ہر ایک مصیبت اور تکلیف سے بچایا ( میں تلاش حق میں سرگرداں رہتا اور مولوی اور پادریوں کے بازاروں میں وعظ سنتا۔راوی پار ایک ہندو ٹھیکیدار کے پاس ملازمت کر لی ) آخر کار (ایک دو ماہ بعد میں شرقپور گیا۔وہاں مسجد عالی میں) ایک نہایت معمر مسلمان مسمی مستقیم کے ہاتھ پر یہ عاجز مشرف بہ اسلام ہوا۔انہوں نے میرے سر کے بال کٹوا دئے اور ان سے مجھے ) نماز وروزہ سے آگا ہی ہوگئی (انہوں نے تین چار روز بعد کہا کہ آج جمعہ ہے تم سوال کرنا ، لوگ چلے گئے۔میں نے سوال نہ کیا۔انہوں نے پوچھا کہ تم نے سوال کیوں نہ کیا۔میں نے ٹالنے کے لئے کہا کہ میرے پاس سلیٹ۔پنسل اور کتاب نہیں اس زمانہ میں امرتسر کا قرب و جواراتنا آباد نہ تھا اور جنگل کی مانند تھا۔جہاں بھیڑیے بھی پائے جاتے تھے۔(مؤلف)