اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 73 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 73

73 قاضی صاحب کو بہت صدمہ ہوا اور اس وقت سے آپ سفر آخرت کیلئے تیار ہو گئے۔آخری عمر میں آپ دمہ کی تکلیف میں مبتلا ہو گئے تھے اور اسی عارضہ سے ربوہ میں ۲۹ / اکتوبر ۱۹۵۳ء کو بعمر بہتر سال چار ماہ اس دار فانی سے عالم جاودانی کو انتقال فرما گئے۔انا للہ و انا اليه راجعون۔از راه شفقت سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا جنازہ پڑھایا اور بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ صحابہؓ میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔المومن يرى و يُرى له کی حدیث نبوی کے بمصداق ربوہ کے ایک دوست نے خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑی برات آئی ہے۔دولہا سفید پگڑی۔اور سفید داڑھی والے سوار چلے آرہے ہیں اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی اس برات میں ساتھ ہیں۔یا شاء ید استقبال کیلئے آئے ہیں۔اگلی صبح اس دوست نے قاضی صاحب کے جنازہ کا نظارہ دیکھا۔اور حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف کو بھی ہمراہ تشریف لے جاتے دیکھا۔تو وہ کہتے ہیں کہ میں نے یقین کیا کہ یہ دولہا حضرت قاضی صاحب مرحوم ہی تھے۔اس خواب سے ان کے خاتمہ بالخیر کی طرف اشارہ تھا۔قاضی عبدالسلام صاحب کو والد صاحب کی وفات کی اطلاع ایک خواب میں ملی۔آپ نے دیکھا کہ والدہ صاحبہ مرحومہ کا ایک باغ ہے۔وہ اس باغ کے اندر ایک بنگلے کے برآمدے میں کھڑی ہیں۔اور سامنے ایک درخت کو ارنڈ خربوزہ سا بڑا پھل لگا ہوا ہے۔جس کا رنگ سبز ہے۔آپ سمجھتے ہیں کہ یہ پک گیا ہے اور اسے ہلا کر تو ڑ لیا ہے۔اور والدہ صاحبہ کو دے دیا ہے۔حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل نے آپ کے فرزند قاضی بشیر احمد صاحب کو تحریر فرمایا: ”اپنے قدیمی مہربان در فیق صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کی خبر پڑھ کر از حد افسوس ہوا۔غفر الله له و اعلی الله مقامه في الجنه ، چندا شعار اسی کارڈ پر بنتے جارہے ہیں: حضرت احمد مسیح و مہدی کے ایک قدیمی صحابی فوت ہوئے پارسا۔نیک بخت۔خوش اخلاق جن کا اخلاص شہرہ آفاق خدمت دیں میں گذاری عمر ان کی اولاد مخلصین تمام وہ کمر بستہ پائے ساری عمر سب ہی خدام احمد والسلام قادیاں کی عمارتیں یکسر ان کی نگرانی میں بنیں اکثر