اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 72 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 72

72 ”بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم مکرمی محتر می قاضی عبدالرحیم صاحب وعلى عبده المسيح الموعود السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مہربانی کر کے کسی وقت دفاتر صدر انجمن احمدیہ کی بنیاد کا کام دیکھ لیں کہ کیسا ہے تا اگر کوئی نقص ہو تو اس کی اصلاح کرائی جاسکے۔جزاکم اللہ خیر۔فقط والسلام خاکسار 66 مرزا بشیر احمد ربوه - ۳۰/۱۰/۵۱ “ مذکورہ بالا تمام امور سے ظاہر ہے کہ آپ فن تعمیر میں بہت ہی تجربہ کار اور ماہر اور گویا استاد کامل تھے۔اور قادیان اور ربوہ میں ان کی قابلیت مسلمہ تھی اور اللہ تعالیٰ کا یہ فضل واحسان تھا کہ اس حیثیت سے جو خدمت کی توفیق آپ کو ملی۔آپ اس میں منفر د تھے۔مسجد دار الفضل قادیان کی تعمیر میں بھی آپ نے قابل قدر مدددی تھی۔(39) مزید خدمات : تعمیرات کے تعلق میں خدمات کے علاوہ آپ اولین موصوں میں سے تھے۔تحر یک جدید دفتر اول میں اس کے آغاز سے باقاعدگی سے حصہ لے رہے تھے۔ملکانہ تحریک میں سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی زیر قیادت جماعت کے مخلصین نے جو کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے۔وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔اپنے خرچ پر احباب کئی کئی ماہ کیلئے میدان جہاد میں سرگرم عمل رہے اور اعداء اللہ کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔جس کا بہت ہی وسیع اثر ہوا اور مدافعت عن الاسلام کی دھاک دنیا پر بیٹھ گئی۔جس کی احرار تک کو تعریف و توصیف کرنی پڑی۔چونکہ علاقہ ملکانہ کے لوگ راجپوت نسل کے تھے۔اس لئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحریک کی گئی تھی کہ راجپوت اقوام کے احمدی احباب بالخصوص اس تحریک میں شرکت کریں۔چنانچہ قاضی عبدالرحیم صاحب اور آپ کے برادر قاضی محمدعبداللہ صاحب ہر دو نے اس تبلیغی مہم میں حصہ لیا۔قاضی عبدالرحیم صاحب نے تین ماہ وقف کئے تھے۔اور ان کو وہاں خوب کام کرنے کا موقعہ ملا تھا۔انتقال پر ملال : جیسا کہ قبل ازیں ذکر کیا جا چکا ہے۔حضرت ام المومنین اعلی اللہ در جانتہا کی غریب الوطنی کی وفات کا