اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 6 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 6

6 والد ماجد : آپ کے والد ماجد قاضی غلام احمد صاحب ( ولادت ۱۲۲۱ھ وفات ۱۲۹۳ھ مطابق سمه ۱۹۳۳ گویا بعمر ۷۲ سال) ایک عالم دین بزرگ تھے۔قاضی ضیاء الدین صاحب کے روز نامچہ میں مندرجہ فہرست لائبریری میں ایک پنجابی سی حرفی کا نام درج ہے جو فضائل حضرت اویس قرنی پر لکھی گئی ہے اور اس کے آگے قاضی ضیاء الدین صاحب نے لکھا ہے۔" مؤلف اس کے قاضی غلام احمد مرحوم متوفی سمه ۱۹۳۳ بکرمی والد راقم آثم آپ اس بات پر فخر کیا کرتے تھے کہ میرے جسمانی باپ کا نام بھی غلام احمد تھا اور روحانی باپ کا نام بھی غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام ( بیان قاضی عبدالرحیم صاحب اور ان کی اہلیہ محترمہ ) نیز موصوفہ کا بیان ہے کہ قاضی غلام احمد صاحب حاجی الحرمین شریفین تھے۔اور حج کے سفر میں جاتے یا آتے ہوئے حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب ( خلیفہ اول) کے ساتھ اکٹھے ایک ہی جہاز میں سفر کیا تھا۔بعد میں اسی تعلق کی وجہ سے حضرت مولوی صاحب کے جموں کے قیام کے دوران میں وہاں جا کر آپ سے ملاقات کرتے تھے۔اولین زیارت حضرت اقدس اور آپ کی قوت جاذبہ : حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کو بزرگوں اور اہل اللہ کی زیارت کا بے حد شوق تھا۔حضرت عرفانی صاحب لکھتے ہیں کہ قاضی صاحب نے جس نیک اور صاحب دل انسان کا ذکر سُنا۔وہ اس کی صحبت سے فائدہ اٹھانا اپنا فرض سمجھتے تھے۔(1) ابتداء میں مولوی غلام رسول صاحب قلعہ والوں سے ملاقات رہی۔پھر ان کی وساطت سے حضرت مولوی عبد اللہ غزنوی سے ملاقات شروع ہوئی۔جن کی رہائش امرتسر میں تھی۔امرتسر کی آمد ورفت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا علم ہو ا۔چنانچہ آپ ابتداء ماہ فروری ۱۸۸۵ء میں قادیان پہنچے۔اس وقت قاضی صاحب کی عمر بیالیس سال کی تھی۔سلسلہ احمدیہ کے لحاظ سے یہ بہت ہی ابتدائی زمانہ تھا۔براہین احمدیہ کا حصہ اول و دوم ۱۸۸۰ء حصہ سوم ۱۸۸۲ ء اور حصہ چہارم ۱۸۸۴ء میں شائع ہو چکے تھے لیکن ابھی اور کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی تھی۔قاضی صاحب کی آمد سے صرف دو سال قبل ہی مسجد مبارک کی تعمیر عمل میں آئی تھی اور ایک سال قبل ہی سیده حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے حضرت اقدس کی شادی ہوئی تھی۔اور ایک سال بعد ۱۸۸۶ء میں حضور نے بمقام ہوشیار پور چلہ کیا۔اور ۱۸۸۷ء میں صاحبزادہ بشیر اول کی ولادت ہوئی۔قاضی صاحب حضرت