اصحاب احمد (جلد 6) — Page 5
5 ولادت : بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم قاضی ضیاء الدین صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت قاضی ضیاءالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے روز نامچہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ولادت ۱۲۵۹ھ (مطابق ۱۸۴۳ء میں قاضی کوٹ (ضلع گوجرانوالہ) میں گیارہ لڑکیوں کے بعد ہوئی تھی۔آپ اکلوتے بیٹے تھے۔آپ کی پیدائش سے پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ کے والد ماجد کو بشارت دی تھی کہ آپ کے ہاں بیٹا پیدا ہو گا جس کا نام ضیاء الدین ہوگا۔آپ کی دختر محترمہ امتہ الرحمن صاحبہ بیان کرتی تھیں دادا جان کو اس بشارت کے پورا ہونے کا ایسا یقین کامل تھا کہ آپ کی ولادت سے قبل ہی وہ اپنی اہلیہ کو کبھی بھی ضیاء کی والدہ کے نام سے پکارتے تھے۔قاضی محمد عبد اللہ صاحب بھی تصدیق کرتے ہیں۔چنانچہ یہ بشارت پوری ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے نہ صرف انہی کو اسم با مسمی بنایا اور دین کی ضیاء سے منور کیا بلکہ آپ کی اولاد کو بھی۔آپ کو اور آپ کے دو فرزند ان کو ۳۱۳ صحابہ میں سے بنایا اور آپ کے ذریعہ آپ کے ضلع میں دین کا نور پھیلا۔اور آپ کے ایک فرزند کے ذریعہ انگلستان میں۔ذالك فـضـل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم - اللہ تعالیٰ ان کی نسل کو ہمیشہ صراط مستقیم پر قائم اور خلافت سلسلہ عالیہ احمدیہ کے انصار میں شامل رکھے۔اور ہمیں بھی اور ہماری اولادکو بھی۔آمین یا رب الع حليه : لعالمین۔قاضی محمد عبد اللہ صاحب آپ کا حلیہ یوں بیان کرتے ہیں۔آپ کا قد درمیانہ تھا۔گول چہرہ اور روشن آنکھیں تھیں۔رنگ چہرہ کا سانولا تھا۔کشادہ پیشانی اور سر پر پگڑی گول سی ہوتی تھی۔آپ کا لباس بالکل سادہ ہوتا تھا۔اکثر تہ بند ہی زیر کمر باندھتے تھے۔سادہ کرتہ کے اوپر سفید چادر اور سردیوں میں گرم لوئی اوڑھ لیتے تھے۔کوٹ کا استعمال ان دنوں عام طور پر کوئی نہ ہوتا تھا۔ہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک کوٹ تبرک کے طور پر ان کو ملا تھا۔اسے استعمال کرتے تھے۔پاؤں میں سادہ دیسی جوتی ہوتی تھی۔آپ کے روز نامچہ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس کے ساتھ غالباً کسی گروپ فوٹو میں آپ کی تصویر بھی تھی۔غالبا یہ وہی ہوگی جو الفضل جلسہ سالانہ نمبر ۱۹۵۸ء کے سرورق پر شائع ہوئی ہے۔