اصحاب احمد (جلد 6) — Page 7
7 مرزا بشیر الدین محموداحمد ایدہ اللہ تعالیٰ (خلیفہ ثانی) کی ولادت اور آغا ز بیعت سے چارسال قبل قادیان آئے۔گویا یہ بہت ہی ابتدائی زمانہ تھا۔کم و بیش دو سال قبل ہی حضرت مولانا نورالدین صاحب (خلیفہ اول) اور حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری کے حضرت اقدس سے مراسم پیدا ہوئے تھے۔ایسے قدیم زمانہ سے آمد و رفت اور تعلق اخلاص رکھنے والے احباب کا رنگ ہی بالکل نرالا تھا۔جس کا سمجھنا بھی ہمارے لئے بہت دشوار ہے۔یہ ایسے تیز نظر لوگ تھے کہ طلوع آفتاب سے بہت ہی پہلے گویا صبح صادق کے وقت سے ہی آفتاب کو شناخت کر چکے تھے۔یہ امران کی جبلت صحیحہ و فطرت سلیمہ اور نور ایمان پر شاہد کامل ہے۔سو پہلی بار آپ فروری ۱۸۸۵ء میں حضور کی زیارت سے مشرف ہوئے۔اور پانچ روزہ قیام میں حضور کی صحبت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ واپس روانہ ہونے سے قبل ے فروری ۱۸۸۵ء کو مسجد اقصیٰ (حصہ قدیم ) کے محراب کے ساتھ سامنے کی دیوار پر کالی سیاہی سے مندرجہ ذیل عبارت خوش خط کر کے تحریر کر گئے۔قَالَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَ اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ*۔مصداق این آیت شریفہ فی الوقت ذات بابرکات جناب مرزا غلام احمد است سلمہ اللہ الصمد - حقیر پنج روز بخدمتش مستفیض ماند - هر روز در ایمان خود نور تازہ مشاہدہ کر د علم ایں معلوم به بصارتیکه محل متابعت شریعت حقه متحل است مفہوم - ام بیچاره معتقد ترہات صوفیه این زمان از یں دولت محروم۔ذات مبارکش مصداق۔حسن و خوبی و دلبری بر تو تمام صحیح بعد از لقائے تو حرام حقیر را اگر خیال پائمالئی عیال و لحاظ بیماری والدہ ضعیف یہ خود عائد حال نشد ے گا ہے فرقت ایس آستان فیض نشاں برخود گوار انکر دے۔۔ضرورت است وگرنه خدائے میداند کہ ترک صحبت جاناں نہ اختیار من است خداوند! بطفیل اخلاص این مرد بر راقم آثم ہم نصیبہ از اخلاص خاص عنایت کن اگر در دعائے خود ناخلصم تا نظر مرزا صاحب ممدوح بریں رقیمہ انداز تا اخلاص از ذات واحد تو برائے حقیر طلب کنند * تو به 119