اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 123 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 123

تھے۔“ 123 خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے حضور کا فرمودہ تقسیم ملک سے سالہا سال قبل پورا ہو گیا تھا۔جب کہ اس کے دکانداروں کی اکثریت احمدی احباب پر مشتمل ہوگئی تھی۔(۴) ایک دفعہ حضرت اقدس نے گھر میں تھوڑے سے چاول بطور پلاؤ پکوائے اور حضرت اقدس کے ارشاد سے حضرت ام المومنین نے قادیان کے تمام احمدی گھرانوں میں تھوڑے تھوڑے بھیجے۔وہ چاول برکت کے چاول کہلاتے ہیں۔اور حضور کا حکم تھا کہ گھر میں جتنے افراد ہیں۔سب ان کو کھا ئیں۔چنانچہ بڑے قاضی صاحب نے اپنے بڑے بیٹے (یعنی میرے خاوند ) قاضی عبدالرحیم صاحب کو جو ان دنوں جموں میں ملازم تھے۔چند دانے کاغذ کے ساتھ چپکا کر لفافہ میں بھیج دیئے اور خط میں لکھ دیا کہ اتنا کونہ جس پر چاول چپکائے ہوئے ہیں کھا لینا۔(78)۔(۵) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) کی شادی کے موقعہ پر ایک میراشن ڈھول لے کر حضور کے گھر آ گئی اور بجانا شروع کر دیا تا کہ کچھ نہ کچھ حاصل کر سکے۔جب حضور نے ڈھول کی آواز سنی تو فوراً اس طرف متوجہ ہو گئے اور فرمایا کہ اس کو کہو کہ ڈھول نہ بجائے اور بند کراؤ۔اور جو کچھ یہ مانگتی ہے اس کو دے دو۔چنانچہ ڈھول بند کر دیا گیا اور اس کو چار پانچ روپے دیدیئے گئے۔پھر وہ کہنے لگی ' جی مینوں سردی لگدی اے پالے دے دن آگئے نے تب حضور نے اسے رضائی بھی دلوادی۔(۶) ایک دفعہ میں حضور کے پاؤں دبا رہی تھی۔گرمیوں کے دن تھے۔کوئی دس گیارہ بجے رات کا وقت ہوگا۔حضور نے اس وقت ایک بھاری کپڑا طلب فرمایا۔غالبا وہ نزول وحی کا وقت ہوگا کیونکہ سخت گرمی میں بھی بوقت نزول وحی بدن ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔ایک ہلکی سی رضائی لائی گئی۔تھوڑی دیر کے بعد حضور اٹھ کر بیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا لڑکی جزاک اللہ۔بس جاؤ۔بچہ نہ روئے۔بچہ سے مراد بشیر احمد ہے جو اُس وقت بہت ہی چھوٹا تھا۔(۷) ایک دفعہ سخت گرمی کے موسم میں ایک عورت جو آلے بھولے (مٹی کے کھلونے) بیچنے والی تھی۔حضرت اقدس کے گھر میں آئی۔اور صحن کے کنویں کے پاس سر سے ٹوکرا اتار کر بیٹھ گئی۔سلطا نو اہلیہ کر مداد کو جو حضور کے گھر میں خادمہ تھیں۔مخاطب کر کے کہنے لگی۔