اصحاب احمد (جلد 6) — Page 124
124 ”بی بی بھکھ لگی ائے یعنی بی بی مجھے بھوک لگی ہے۔اس پر خادمہ نے اس کو دوروٹیاں دال ڈال کر دے دیں۔اس نے اس میں سے ایک لقمہ تو ڑا۔لیکن جب منہ کے قریب لے جانے لگی تو ادھر ادھر مکان میں نظر دوڑائی اور کہا کہ ”بی بی ایہ عیسائیاں دا گھر تے نہیں ؟“ خادمہ نے پوچھا ” تو کون ایں تو اس نے جواب دیا۔”میں بندہ خدا دا تے امت حضرت محمد رسول اللہ دی۔جب یہ آواز اس کی حضرت اقدس نے سنی تو اسی وقت حضور جو برآمدہ میں ٹہل رہے تھے۔اس کے الفاظ پر جھٹ اس طرف متوجہ ہوئے اور اُس طرف منہ کر کے فرمایا کہ ان کو تسلی دو کہ یہ گھر مسلمانوں کا ہے اور یہی گھر تو مسلمان کا ہے اور اسے ایک روپیہ بھی دیا۔اور فرمایا کہ اس نے میرے پیارے کا نام لیا ہے۔اور باوجود اس کے کہ اس کو سخت بھوک لگی ہوئی تھی اس نے تقویٰ سے کام لیا کہ لقمہ تو ڑ کر منہ میں نہیں ڈال لیا۔پھر اس عورت نے روٹی کھائی اور خوش خوش چلی گئی۔*" (5) روایات حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب قاضی عبدالرحیم صاحب کی روایات (۱۰ تا ۱۳) آپ کی ڈائری سے نقل کی گئی ہیں۔نمبر ۱۵ خاکسار کے نام ایک خط سے درج کی گئی ہے۔بقیہ روایات آپ نے ۱۹۴۱ء میں قاضی عبد السلام صاحب کو لکھوائی تھیں۔(۱) '' میرے والد صاحب مرحوم و مغفور نے ایک دن صبح کے وقت مجھے تلاوت قرآن کریم میں با قاعدگی کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خاص طور پر اس امر پر زور دیا ہے کہ آنے والی تباہی میں ان لوگوں کو میں دین و دنیا کے لحاظ سے سخت تباہی میں دیکھتا ہوں جو قرآن کریم سے وابستگی اور اس کی تلاوت کے التزام سے غافل ہیں۔صرف وہی لوگ بچائے جائیں گے۔جو قرآن کریم سے وابستگی رکھتے ہوں گے۔یہی اس مصیبت سے بچنے کا ذریعہ ہے۔* (۲) ”میاں محمد بخش عرف میاں مہندا والد میاں عبداللہ احراری جو خوجوں والی مسجد کا (جو وچہ الحکم میں واقع ہے۔مؤلف ) ملاں تھا۔قادیان میں قصائیوں کے جانور ذبح کیا کرتا تھا۔جب مرزا امام الدین صاحب فوت ہوئے تو میاں مہندا نے ان کا جنازہ پڑھایا۔اس پر نام نہاد مسلمان خصوصاًد یہاتی عدم صفائی اور غلاظت کیلئے بدنام تھے اور ہندوستان میں عیسائیت قبول کرنے والے حتی کہ چوڑھے چہار تک بھی صفائی پسند ہو جاتے تھے۔مکان میں اُس عورت کو صفائی نظر آئی اسی سے اس کو غلط نبی پیدا ہوگئی ہوگی۔(مؤلف)