اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 122 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 122

122 بھی کام کرتے رہے ہیں اور چند سال ہوئے فوت ہو چکے ہیں قادیان میں میرے ہم جماعت تھے۔انہیں اور مجھے حضرت اقدس کے ساتھ لاہور اور گورداسپور کے بعض سفروں میں جانے کے مواقع بھی حاصل ہوئے ہیں۔“ (۴) روایات محترمہ صالحہ بی بی صاحبہ رض (۱)’ ایک دفعہ مجھے قاضی ضیاء الدین صاحب نے جب کہ میرالڑ کا بشیر احمد جوا بھی بالکل بچہ ہی تھا اور بوجہ بیماری کے کمزور تھا۔حضور کو دکھانے کیلئے بھیجا۔حضور نے دیکھ کر فرمایا کہ اوہو! یہ تو بہت کمزور ہو گیا ہے اور سر پر ہاتھ بھی پھیرا۔پھر حضور نے ایک بوتل عرق گاؤزبان کی اور ایک چینی کی پیالی دی اور ایک خوراک اسی وقت حضور نے ڈال کر بچہ کے منہ سے پیالی لگا کر پلائی۔جب میں پیالی واپس کرنے لگی تو حضور نے فرمایا کہ نہیں۔یہ پیالی بھی لے جاؤ اور یہ بوتل بھی اور دن میں دو دفعہ پلانا اور مولوی صاحب ( یعنی حضرت مولوی نور الدین صاحب) کو بھی دکھانا۔قاضی صاحب کو کہہ دینا۔میں دعا کروں گا۔یہ اچھا ہو جائے گا۔فکر نہ کرنا۔(۲) حضرت اقدس جب کرم دین والے مقدمہ والے سفر جہلم سے واپس تشریف لائے تو حضرت اُم المومنین سے مخاطب ہو کر اپنے صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کے متعلق فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ سلطان احمد ڈپٹی ہو گیا ہے؟ اس نے دعا کرائی تھی۔ہم نے دعا کی تھی۔(۳) ”ہندوؤں والے بازار میں سے جو اب بڑا بازار کہلاتا ہے۔اور اس وقت چھوٹا سا تھا۔ایک دفعہ حضور گذر کر سیر کے لئے شمال کی طرف جہاں اب حضرت مولوی شیر علی صاحب کا گھر ہے۔تشریف لے گئے۔ہم دس پندرہ عورتیں حضور کے ہمراہ ہونگی۔واپسی پر اسی بازار میں سے گذرتے ہوئے چوک میں جو مسجد اقصیٰ کے متصل شمال میں ہے۔کنویں کے پاس ٹھہر گئے۔اور سوٹی کی نوک زمین میں لگا کر فرمایا کہ یہ عنقریب احمدی بازار کہلائے گا۔اور یہاں احمدی ہی احمدی ہونگے۔اور پھر حضور بڑی مسجد ( یعنی مسجد اقصیٰ ) میں آئے اور وہاں پانی پیا۔پھر حضور نے اپنے والد ماجد کے مزار پر دعاء فرمائی۔یہ گرمیوں کے دن