اصحاب احمد (جلد 5) — Page 611
۶۱۷ بستی یا محلہ پر ولایت اور حکومت ہوتی ہے۔اس لئے جو ان کی ملاقات کے لئے باہر سے آئے وہ ان کی امامت نہ کرائے۔چنانچہ ابن سیف نے لوڈی کے بیان کردہ معنوں پر لکھا ہے کہ کسی گھر والے کو باہر کا کوئی آدمی امامت نہ کرائے۔لانه موضع سلطنہ۔پس کسی کے گھر اور اہل میں یا کسی قوم میں باہر کے آدمی کے لئے امامت کرانی اس لئے ممنوع ہے کہ وہاں پر اس کی یا ان کی ولایت رکھنے والے کا حق ہے۔ہاں امامت اور حکومت ،سلطنت ، ولایت کے معنے اس جگہ وہی ہیں جو کہ الا كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته ۱۲ میں آنحضرت نے راعی کو دئے ہیں۔پس گھر والا اور اہل والا چونکہ اپنے گھر اور اہل کا سلطان ہے اس لئے گھر میں اور اہل میں امامت کا حق اسی کو حاصل ہے۔دوسرا اس کی سلطنت میں امامت نہیں کراسکتا۔قوم اپنے علاقہ کی سلطان ہے۔لہذا وہاں پر امامت کا حق اس کو ہے لہذا دوسرا کوئی وہاں پر امامت نہیں کر سکتا۔پھر گھر والے کا اور اہل والے کا اور قوم کا اگر کوئی سلطان ہو وہ وہاں پر موجود ہو تو پھر ان سب احادیث کی وجہ سے امامت ان کے سلطان کا حق ہوگا۔ان کا حق نہیں کہ اپنے سلطان کے امام بہنیں اور ظاہر ہے کہ نماز اور امامت دینی امور ہیں لہذا ان کا تعلق دینی سلطنت ، دینی حکومت اور دینی ولایت سے ہے اور یہ سلطنت ،ولایت اور حکومت خلیفہ وقت اس کے نواب اور نمائندوں کو حاصل ہے قاضی شوکانی نے لکھا ہے۔قال اصحاب الشافعى وبقدم السطان اونائية على صاحب اليبت وامام المسجد وغيرهما لان ولايته وسلطنتۂ عامہ۔چنانچہ اسلام میں اس کے بیان کردہ اصل کے ماتحت امامۃ الصلواۃ جاری ہے۔جب قاعدہ یہ ہوا کہ اقراء کتاب اللہ امام ہو تو اس سے صاف ثابت ہوا کہ غیر اقرا۔اقرآ کو امامت نہیں کر اسکتا۔اسی طرح پر اعلم بالسنّة كو غير اعلم بالسنة امامت نہیں کر سکتا۔اسی طرح اقدم بالهجرة اور اقدم سنا کا حال ہے کہ غیر اقدم ان کو امامت نہیں کر سکتا۔مگر جنگ وغیرہ امور میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا خلفاء راشدین کسی کو امیر مقرر کر دیتے تھے تو پھر وہ امیر امام الصلوۃ ہوتا تھا۔اور بار ہا ایسا ہوتا تھا کہ اس کے نیچے اس سے اقرا علم اور اقدم بالهجرة یا اقدم سنا ہوتے تھے۔پس وہی امیر جس کو ان پر سلطنت اور ولایت حاصل ہے باوجود بعض ماتحتوں کی نسبت غیر اقرا۔غیر اعلم بالسنة غيرا قدم ہونے کے امام الصلوۃ ہوتا تھا۔یہ ایسا واضح مسئلہ ہے کہ کسی کا اس میں اختلاف نہیں اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی روایت ہے۔جس میں یہ بیان ہو کہ فلاں امیر تھا مگر غیر اقر آ ہونے وغیرہ کے باعث امام الصلوۃ نہ ہوتا تھا۔بلکہ فلاں اقرا امامت کراتا تھا۔یہاں تک کہ حضرت عمر نخوجی سپاہی اور حضرت اسامہ امیر جیش مقرر ہوئے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آنحضرت کے خلفاء راشدین نے جس جس کو بطور نمائندگی باہر بھیجا ہے ان