اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 612 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 612

۶۱۸ میں سے ایک کی نسبت بھی کوئی روایت نہیں ملتی کہ جس قوم میں وہ گیا ہے اس قوم کا ایک شخص امامت کراتا تھا۔اور وہ نمائندہ مقتدی ہوتا تھا۔امام نہ ہوتا تھا۔استمرار و تو کیا ایک نماز کی امامت بھی نمائندہ کو غیر نمائندہ نے بغیر کسی عذر کے کرائی ہو۔بلکہ ثبوت ملتا ہے تو یہی کہ جو نمائندہ باہر گیا ہے تو وہی امام الصلوۃ ہوا ہے۔مثلاً طبرانی نے ابو مسعود انصاری سے روایت ہے اوّل من قدم المدينة من المهاجرين مصعب بن عمير وهو اول من جمع بها يوم الجمة قبل ان يقدم النبي صلى الله عليه وسلم وهو اثنا عشر رجل ۸۳ اور یہ وہی زمانہ ہے کہ ابھی محض دینی حکومت تھی اور دنیاوی سلطنت نہ تھی۔چنانچہ امام بخاری نے قری میں جمعہ ثابت کرنے کا باب باندھا ہے۔اور چونکہ جو قریٰ میں جمعہ منع کرتے ہیں کہ وہاں پر کوئی امیر نہیں ہوتا تو الجمعة في القریٰ کے باب میں یہ حدیث درج کی ہے۔الا کلکم راع وكلكم مسئول عن رعیتہ۔اور پھر وہ حدیث بھی وہاں پر ہی درج کی ہے کہ جس میں زریق عامل اہل قرئی جمعہ پڑھنے کی نسبت ابن شہاب سے دریافت کرتے ہیں۔اور ابن شہاب قریٰ میں جمعہ پڑھنے کا حکم دیتے ہیں اور وہ بطور سند ساتھ یہ حدیث لکھتے ہیں الا کلکم کہ اور یہ حدیث اس لئے لکھتے ہیں کہ قریٰ میں امیر کوئی نہیں ہوتا۔جمعہ اور عیدین کے لئے امیر کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے اور الا کلکم بتاتی ہے کہ ہر ایک امیر ہے۔یعنی نماز جمعہ وغیرہ عبادات جہاں سلطان امیر حاکم وغیرہ کا ذکر آتا ہے اس سے یہی سلطنت ، امامت وغیرہ مراد ہے جو کہ الا کلکم۔میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائی ہے اور بالکل ظاہر ہے کہ احمد یہ جماعت کے ہر رجل پر۔ہر اہل بیت پر ہر خاندان، قوم اور گروہ اور بستی پر یہ سلطنت ، امامت اور حکومت خلیفہ وقت اور ان کے نمائندوں کو حاصل ہے اس لئے امام الصلوۃ انہی کا حق ہے۔اور جہاں پر یہ موجود ہوں شرعاً کوئی دوسرا ان کے لئے امام الصلواۃ نہیں ہو سکتا۔(۳۶-۰۴-۰۱)