اصحاب احمد (جلد 5) — Page 610
۶۱۶ آمد ملاقات کے لئے نہیں ہے۔یہ کہنا ہر گز صحیح نہیں ہو سکتا کہ وہ ان کو ملنے آئے ہیں۔وہ ان کی ہدایت تعلیم دین یا اسلامی کام کے لئے آئے ہیں نہ کہ لوگوں کو ملنے کے لئے۔پس ان دونوں حدیثوں کے الفاظ میں ان کو شامل نہیں کیا گیا۔دوم اگر کوئی فی بیتہ اور زار کے الفاظ کی پیدا کی ہوئی تخصیص کو از خودا ڑ اکر ان کو عام کر دے تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوبھی لفظ ر جل اور لفظ رزاں میں شامل کرتے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل اس تیم کو باطل ٹھہراتا ہے۔کیونکہ حضور جہاں جہاں بھی تشریف لے گئے حضور نے خود ہی نماز پڑھائی ہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جن لوگوں میں آپ تشریف لے گئے ہوں ان میں سے کسی کو امام بنایا ہو۔اور آپ خود مقتدی بنے ہوں اسی طرح آپ کے خلفاء بھی شامل ہوں گے۔مگر ان کا عمل بھی وہی رہا ہے جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رہا ہے۔سوئم یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس طرح لا يؤمن الرجل الرجل في اهله يا في بيته فرمايا ہے اس طرح فی سلطانہ فرمایا ہے بعض حدیثوں میں اس کو فی بیتہ کے ساتھ ملایا ہے اور بعض نے فی اھلہ کے ساتھ ملایا ہے۔چنانچہ ابوداؤد کی روایت میں ہے لا يؤم الرجل في بيته ولا سلطانہ اور مسلم وغیرہ میں ہے کہ لا يؤمن الرجل فى اهله ولا في سلطانه - لیکن جس حدیث کو سب نے روایت کیا ہے اور جو امامت کے بارہ میں بطور اصل اور قاعدہ کے ہے اس میں صرف فی سلطانہ ہے۔اور وہ یہ ہے عن ابى مسعود عتيته ابن عمر قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوم القوم اقرؤهم لكتاب الله فان كانوا فى القرأة سواءً فاعلمهم بالسُنَّة فان كونوا في السنة سواءً فاقد مهم هجرة فان كانوا فى الهجرة سواءً فاقد مهم سُنا فلا يومن الرجل الرجل في سلطانه فلا يقعد في بيته على تكته الا باذنه ۱۰۴ صحیح مسلم کے شارح نودی نے اس کی شرح میں لکھا ہے مضاه ان صاحب البيت والمجلس وامام المسجد احق عن غیرہ لیکن قاضی شوکانی نے نیل الاوطار میں نو دی کے ان معنوں کو رد کرتے ہوئے لکھا ہے والظاهر ان المراد به السلطان الذي اليه ولاية امور النّاس لاصاحب البيت نحوه يدلّ على ذلك مافی روایۃ ابی داود بلفظ لا يؤم الرجل في بيته ولا فى سلطانه والظاهر أنَّ للسّطان تقدّم على غيره وان كان اكثر منه قرانا وفقها وورعا وفضلاً فيكون مخمصالما قبله ۱ پس فی سلطانہ کے معنے یہ ہوئے کہ کسی کی ولایت اور حکومت پر اس کے اذن کے سوا کوئی امام بن کر جماعت نہ پڑھائے۔اور گھر والے کی اس کے گھر اور اہل بیت پر ولایت اور حکومت ہوتی ہے اس لئے اس کے گھر میں اس کی کوئی امامت نہ کرائے اور قوم کو اپنی